Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر انتخابات ملتوی کرنے سپریم کورٹ میں درخواست

جموں و کشمیر انتخابات ملتوی کرنے سپریم کورٹ میں درخواست

نئی دہلی 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کی عوامی نیشنل کانفرنس (اے این سی ) نے آج سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر سیلاب زدہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست پیش کی اور کہا کہ صورتحال انتخابات کیلئے ساز گار نہیںہیں کیونکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اے این سی کی کونسل نے اپنی درخواست جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس ایس اے بوبڑ

نئی دہلی 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کی عوامی نیشنل کانفرنس (اے این سی ) نے آج سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر سیلاب زدہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست پیش کی اور کہا کہ صورتحال انتخابات کیلئے ساز گار نہیںہیں کیونکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اے این سی کی کونسل نے اپنی درخواست جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس ایس اے بوبڑے پر مشتمل بنچ پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسے متاثرین سیلاب کی راحت رسانی اور باز آبادکاری کی فکر ہے ۔ اس بنچ کی صدارت چیف جسٹس کے ذمہ ہے جو اس مسئلہ پر درخواست مفاد عامہ کی سماعت کرے گی۔معاملہ عدالت کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس عدالت کو سب سے زیادہ باز آبادکاری کے مسئلہ کی فکر ہے اور بنچ کی صدارت چیف جسٹس کرتے ہیںجنہیں بحیثیت مجموعی صورتحال کا اندازہ ہے اس لئے یہ معاملہ آج ہی چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے ۔ مختصر سی سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے اے این سی کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ 72 لاکھ رائے دہندے جن کا تعلق تقریبا 2600 دیہاتوں سے ہے سیلاب سے متاثر ہیں۔ تقریباً 390 دیہات زیر آب آگئے تھے۔ باز آبادکاری کا کام اب بھی مکمل نہیں ہوا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کو یقینی بناسکتا ہے ۔ کیا وہ ہر رائے دہندے تک پہنچ سکتا ہے ۔ بیشتر رائے دہندے اپنے گھروں کو واپس آنے کے قابل نہیں ہے ۔ صورتحال کو ’’خطرناک ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو نوٹیسیں جاری کی جائیں انہوں نے عدالت کو اطلاع دی کہ جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے قائد بھیم سنگھ کی درخواست مفاد عامہ صرف راحت رسانی اور باز آبادکاری کے بارے میں ہے۔

کشمیر : بی جے پی دفعہ 370 کا موضوع بھول گئی
نئی دہلی 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے مقصد سے امکان ہے کہ بی جے پی اپنا پسندیدہ موضوع دفعہ 370کو انتخابی موضوع نہیں بنائے گی ۔ حالانکہ پارٹی کے موقف یہ ہے کہ یہ دفعہ جو جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرتا ہے اس ریاست کے باقی ملک کے ساتھ یکجہت ہونے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ بی جے پی نے ’’مشن 44پلس ‘‘ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنا ہے ۔ چنانچہ وہ دفعہ 370 بھلا کر انتخابی مہم میں ترقی اور نیشنل کانفرنس کے عبداللہ خاندان اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے مفتی خاندان کی مبینہ ’’ناقص حکمرانی‘‘ کو انتخابی موضوع بنائے گی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری رام مادھو انچارج امور بی جے پی جموں و کشمیر نے کہا کہ ہم عوام کو کرپشن اور محرومی سے چھٹکارہ دلائیں گے

TOPPOPULARRECENT