Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جموں و کشمیر اور تلنگانہ پر کویتا کا ریمارک قابل اعتراض

جموں و کشمیر اور تلنگانہ پر کویتا کا ریمارک قابل اعتراض

سرحدی ریاست ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ‘کانگریس ترجمان کا بیان

سرحدی ریاست ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ‘کانگریس ترجمان کا بیان
نئی دہلی۔21جولائی ( پی ٹی آئی ) کانگریس نے جموںو کشمیر اور تلنگانہ کے بارے میں ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا کی جانب سے کئے گئے چند ریمارکس پر آج اعتراض کیا ‘ جن کے بارے میں وہ ( کانگریس) سمجھتی ہے کہ اس سے انڈین یونین کے جواز اور یکجہتی کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد سے لوک سبھا کیلئے پہلی مرتبہ منتخب ٹی آر ایس کی رکن کے ریمارکس قابل اعتراض ہیں ۔ کویتا نے ریمارک کیا تھا کہ ’’ ہمیں جموں و کشمیر کے بارے میں واضح ہونے کی ضرورت ہے ‘ چند حصے ہمارے نہیں ہیں ‘ ہمیں اس سے اتفاق کرنا چاہیئے ‘ ہمیں بین الاقوامی خطوط کا دوبارہ نقشہ بنانا چاہیئے ‘‘ ۔ سنگھوی نے کہا کہ کانگریس اور حتی کہ پارلیمنٹ کا بھی یہ موقف ہے کہ 1947ء کے قانون انضمام کے مطابق سابق شاہی ریاست کشمیر ہر اعتبار سے ہندوستان کا ایک ناقابل تقسیم ‘ ناقابل علحدگی اور اٹوٹ حصہ ہے ۔ ابھیشیک سنگھوی نے اصرار کیا کہ پاکستان کے زیر کنٹرول جو بھی علاقے ہوں وہ غیرقانونی طور پر مقبوضہ ہیں ‘ چنانچہ’’ چند حصے ہمارے نہیں ہیں‘‘ کہنا تاریخ یا حقائق یا سیاسی اعتبار سے کوئی درست بیان نہیں ہوسکتا ۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ اس ضمن میں وضاحت کرنا اس لئے بھی نہایت ہے کہ بیرونی قائدین ‘ ادارہ جات وغیرہ لوک سبھا کیلئے منتخب نمائندوں کی طرف سے جاری کئے جانے والے بیانات کا مطالعہ کرتے ہیں اور ایسے بیانات سے انہیں غلط فہمی ہوسکتی ہے اور وہ غلط طور پر اس کا حوالہ دے سکتے ہیں جس سے کئی دہائیوں سے اختیار کردہ ہندوستان کے غیر متزلزل موقف کے بارے میں شبہات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ ابھیشیک سنگھوی نے کویتا کے اُس بیان پر بھی سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جموں و کشمیر اور تلنگانہ دونوں ہی زبردستی کے ساتھ جبری طور پر قائم کئے گئے تھے اور اُس وقت انڈین یونین میں ان کا انضمام عمل میں لایا گیا تھا ۔ سنگھوی نے کویتا کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا جس میں انہوں نے کشمیر اور تلنگانہ میں یکساں قوانین پر زور دیتے ہوئے وہاں زمین یا جائیداد کی ملکیت نہ حاصل کرنے کے مسئلہ پر اظہار خیال کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT