Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں انتخابی جنگ کا آغاز

جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں انتخابی جنگ کا آغاز

شاہد احمد چودھری

شاہد احمد چودھری
وزیراعظم نریندر مودی کی ریلیوں کے ساتھ ہی جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر میں انتخابی پارا بڑھ گیا ہے ۔ جموں و کشمیر کی 88 اور جھارکھنڈ کی 81 نشستوں کے لئے اسمبلی انتخابات پانچ مراحل میں ہورہے ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں 25 نومبر کو جموں و کشمیر کی 15 سیٹوں کے لئے جبکہ جھارکھنڈ کی 13 نشستوں کے لئے پہلے مرحلے کے ووٹ ڈالے گئے ۔ یہ پہلا موقع ہے ، جب ان ریاستوں کے انتخابات کی آہٹ سارے ملک میں سنائی دے رہی ہے ۔ حالیہ انتخابی نتائج نے چھوٹی ریاست ہونے کے بعد بھی مستقبل کی سیاست کے لئے ان دونوں ریاستوں کی سیاسی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے ۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال کیا جانے لگا ہے کہ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں بی جے پی کی جیت کی رفتار سے کیا مان لینا چاہئے کہ ملک کا سیاسی نقشہ بدلنے والا ہے ؟ کیا بی جے پی کی جیت علاقائی پارٹیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ؟ اب یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سو سال پرانی کانگریس کے ساتھ ساتھ ان ریاستوں کی علاقائی پارٹیوں اور اتحاد کی سیاست کے پیروکاروں کے لئے یہ چناؤ کافی اہم ہیں ۔ کبھی فرقہ پرستی کا نعرہ بلند کرنے والی بی جے پی نے اس دفعہ کروٹ بدل لی ہے اور جموں و کشمیر میں اپنی جیت پکی کرنے کے لئے 40 فیصد مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔لوک سبھا اور اس کے بعد کے انتخابات میں ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘‘ کے نعرے کے آگے فرقہ پرستی اور سیکولرازم کا مسئلہ ہوا ہوگیا ہے ۔ ہریانہ اور مہاراشٹرا کے انتخابات میں ذات پات ، مذہب ، زبان اور علاقائیت کی سیاست بھی لگاتار کمزور ہوتی دکھائی دی ۔ ان دونوں ریاستوں میں بھی اب تک کی انتخابی مہم کے دوران یہ ایشوز بہت زیادہ موثر نظر نہیں آئے ہیں ۔

وزیراعظم نریندر مودی کے پورے جوش کے ساتھ انتخابی مہم میں اترنے کے بعد ایک بار پھر ان ریاستوں میں مقابلہ مودی بنام دیگر دکھائی دے رہا ہے ۔ مہاراشٹرا ، ہریانہ اور لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے دم پر بی جے پی یہاں بھی بہتر امکانات سے پھولے نہیں سمارہی ہے ۔ وہ کانگریس سے پاک ہندوستان کے اپنے مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک بار پھر رائے دہندگان کو ڈیولپمنٹ کا پاٹھ پڑھارہی ہے ۔ ان دونوں ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کی قیادت میں اتحادی پارٹیوں کی حکومت ہے ، جس میں کانگریس گزشتہ کئی برسوں سے معاون جماعت کے رول میں ہے ۔ اس لئے بی جے پی کے وجے رتھ کو روکنے کا بڑا چیلنج علاقائی پارٹیوں کے ساتھ کانگریس کے سامنے بھی ہے ۔ جھارکھنڈ میں برسراقتدار جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس اپنے دیگر معاونین کے ساتھ مل کر ووٹوں کا بکھراؤ روکنے کی حکمت عملی اپنارہی ہے ۔ لیکن جموں و کشمیر میں حالت برعکس ہیں ۔ یہاں برسراقتدار نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد ٹوٹ چکا ہے اس کے علاوہ پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی جیسی علاقائی پارٹی پینتھرس پارٹی بھی ’’اکیلے چلو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ اس لئے ہمہ رخی مقابلے کی پوری امید دکھائی دے رہی ہے ۔ جموں و کشمیر میں حکومت بنانا وزیراعظم مودی اور ان کے چانکیہ امیت شاہ کا ڈریم پلان ہے ۔
ہریانہ میں بی جے پی کو ملی غیر متوقع کامیابی نے علاقائی پارٹیوں کی بے چینی اور بڑھادی ہے ۔ یہاں بھی علاقائی پارٹیاں ایک بار پھر کسوٹی پر ہیں ۔ اس دفعہ ان علاقائی پارٹیوں کو مل رہا چیلنج کچھ الگ طرح کا ہے اور انھیں بی جے پی کے قومی ترقیاتی ماڈل کے مقابلے الگ طرح کا ماڈل پیش کرنا ہوگا ۔ پھر ان کے سامنے مودی جیسی شخصیت اور امیت شاہ کی حکمت عملی بھی ہوگی ۔ یہاں حکمت عملی ایسی ہے کہ وہ علاقائی پارٹیوں کی ہی طرح علاقائی سوال اٹھا کر ان کو غیر موثر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے ۔ اس لئے اس نے ریاستوں کے انتخابات میں علاقائی منشور نامہ جاری کرنے کا نیا سیاسی ہتھکنڈہ اپنایا ہے ۔
ریاست کا تانا بانا کچھ اس طرح کا ہے کہ جموں و کشمیر ، لداخ اور کشمیر وادی یعنی تینوں علاقوں میں جیت کے بعد ہی کوئی پارٹی اکیلے حکومت بناسکتی ہے ۔ اس لئے بی جے پی نے اپنی حکمت عملی اور پالیسی بدلی ہے ۔ جموں توی میں تو پہلے سے مضبوط ہے ، لداخ میں لوک سبھا انتخاب میں کامیاب ہوچکی ہے ۔ سرینگر علاقے میں کامیابی کے لئے اس نے پینترا بدل دیا اور آرٹیکل 370 کا موضوع ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ، جبکہ 2008 میں انتخابی مہم میں بی جے پی قائدین نے دلی کا اقتدار حاصل ہونے پر آرٹیکل 370 قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ بی جے پی اسمبلی کی 87 سیٹوں میں 70 سے زائد سیٹوں پر انتخاب لڑرہی ہے ۔ اقتدار میں آنے کی خاطر بی جے پی نے اپنے ڈریم پراجکٹ ’’مشن 44 پلس‘‘ کے تحت اسمبلی انتخابات میں تقریباً 40 فیصد مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔ ہندوستان کی تین دہائی کی تاریخ میں ملک کے کسی علاقے میں پہلی بار اتنی زیادہ تعداد میں مسلمان کمل نشان پر انتخاب لڑرہے ہیں ۔ کشمیر وادی میں زعفرانی پارٹی نے 25 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے ۔ جموں میں پارٹی نے 6 اور لداخ میں ایک مسلم امیدوار کو اتارا ہے ۔ وادی میں بی جے پی نے چار کشمیری پنڈتوں اور ایک سکھ کو بھی امیدوار بنایا ہے ۔ مؤثر حکمت عملی کے تحت بی جے پی نے لداخ علاقے میں تین بودھوں کو بھی ٹکٹ دیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بودھوں کو لبھانے کے لئے ہی تبت کے دھرم گرو دلائی لاما کو سنگھ نے وشوا ہندو کانگریس میں پوری اہمیت دی ہے ۔ وادی کشمیر کے روشن خیال قائدین سے مودی کی ملاقات بھی اسی نظریئے سے دیکھی جارہی ہے ۔ ان Equation کی وجہ سے یہاں انتخاب دلچسپ ہوگیا ہے ۔

قبائلی مفاد ، ذات پات کا تناسب اور عجیب طرح کی سیاسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے جھارکھنڈ بھی اب تک اپنے بے میل سیاسی اتحاد کی وجہ سے جانا جاتا رہا ہے ۔ لیکن اس دفعہ بی جے پی یہاں ہریانہ جیسا گل کھلانے کی کوشش میں ہے ۔ اتنے دنوں تک اتحاد کی سیاست میں کوٹتے پیستے رہنے کے بعد جھارکھنڈ کے لوگ بھی اس بار امید کے رتھ پر بھی سوار ہوسکتے ہیں ۔ جھارکھنڈ میں گزشتہ 14 برسوں میں نَو سرکاریں بنی ہیں اور تین بار وہاں صدرراج کا نفاذ عمل میں آیا ۔ سال 2005 اور 2009 میں اسمبلی انتخابات میں منتشر رائے دہی وجود میں آئی تھی ۔ اتحاد کے دباؤ ، سیاسی عدم استحکام اور رویہ میں کمزور دکھائی دیتی سرکاروں کے تئیں جھارکھنڈ کے لوگوں کا غصہ بڑھا ہے ۔ اس لئے ایک مستحکم حکومت کے لئے رائے دہندگان میں اس دفعہ کچھ زیادہ بے چینی دکھائی دے رہی ہے ۔ بی جے پی اس سیاسی صورت حال میں رائے دہندگان کو اپنے ترقیاتی پروگراموں کا خواب دکھا کر ہرحال میں فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنی ریلیوں میں پہلے ہی خاندانی اور موروثی قیادت کو درکنار کرنے اور سیاسی گٹھ بندھن والی صورت حال پیدا نہ ہونے دینے کی اپیل کررہے ہیں ۔ جبکہ کانگریس ایک بار پھر جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سہارے زمین تلاش کررہی ہے ، بلکہ یہ اس کی مجبوری ہے ۔ علاقائی صوبہ دار علاقائی ووٹوں کی تقسیم روکنے کے لئے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ وہاں کے انتخابی نتائج پڑوسی ریاست بہار کی سیاسی سمت بھی طے کریں گے ، جہاں اس وقت اتحاد کی سیاست کسوٹی پر ہے جو 2015 میں بہار انتخابات کی سیاسی رخ طے کرے گی ۔ غور طلب ہے کہ بہار میں حال میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو روکنے کے لئے لالو ۔ نتیش نے کانگریس کے ساتھ مل کر اتحاد کی سیاست کا نیا سیاسی داؤ چلا تھا ۔ بہرحال سیاسی حلقوں میں مانا جارہا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے انتخابی نتائج آگے کا رخ طے کریں گے ، کیونکہ آئندہ سال بہار میں الیکشن ہونے والے ہیں ، تو دوسری جانب سال 2016 کے آغاز میں ہی چار اہم ریاستوں میں مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، کیرالا و آسام میں انتخابات کے امکانات ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT