Wednesday , December 19 2018

جموں و کشمیر : تشکیل حکومت میں عوامی جذبات کا خیال رکھیں :مفتی مکرم

نئی دہلی۔/20فبروری، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کیلئے سرچشمہ ہدایت کتاب و سنت ہے۔ پاک پروردگار خالق کائنات ہے اوراس نے ہدایت کیلئے پیغمبر بھیجے ۔سیرت رسولؐ سے ہٹ کر مسلمانوں کے لئے کوئی بھی عمل گمراہی ہے۔ انبیاء کرام کے نام کتاب و سنت میں موجود ہیں ان

نئی دہلی۔/20فبروری، ( فیکس ) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کیلئے سرچشمہ ہدایت کتاب و سنت ہے۔ پاک پروردگار خالق کائنات ہے اوراس نے ہدایت کیلئے پیغمبر بھیجے ۔سیرت رسولؐ سے ہٹ کر مسلمانوں کے لئے کوئی بھی عمل گمراہی ہے۔ انبیاء کرام کے نام کتاب و سنت میں موجود ہیں ان کے علاوہ کسی دیوتا کو پیغمبر بتاناگناہ اور توبہ کے قابل عمل ہے۔ یقینی طور پر ہم نئے پیغمبروں کے نام شامل نہیںکرسکتے یہ گناہ ہے۔شاہی امام نے کہا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بغیر ترقی بہت مشکل ہے ۔ آزادی کے بعد سے آج تک ہر میدان میں ترقی ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ یہاں کی سیکولر جمہوریت ہے، ہندوستان کی ترقی اور خوشحالی میں ہر مذہب کے لوگوں کا رول ہے اور ملک کی حفاظت کیلئے جان قربان کرنے والوں میں مسلمانوں کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔دو روز قبل وزیراعظم نے عیسائیوں کے ایک فنکشن میں انگریزی زبان میں تقریر کرتے ہوئے صاف صاف اعلان کیا کہ فرقہ پرستی برداشت نہیں کی جائے گی خواہ وہ اکثریت کی طرف سے ہو یا اقلیتی فرقہ کی طرف سے ہو،ان کی حکومت کو نو ماہ ہورہے ہیں۔ یہ بیان اچھا ہے لیکن بہت زیادہ تاخیر ہوجانے کی وجہ سے اس کی معنویت کم ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی ساکھ ملک اور بیرون ملک میں بہت خراب ہونے کے بعد اور ان کی سیاسی پارٹی کی شرمناک شکست کے بعد یہ بیان آیا ہے،اب دیکھنا ہے کہ اس پر کون عمل کرتا ہے۔ فرقہ پرست لیڈروں نے تو ایسا لگتا ہے کہ پارٹی سے بغاوت کررکھی ہے ۔ ہندوستان میں اقلیتی افراد پر حملوں کی وجہ سے امریکہ میں بھی حملے ہورہے ہیں۔ وزیر اعظم کو اپنے اس بیان پر عمل کرکے دنیا کو دکھانا ہوگا کہ فرقہ پرست لیڈروں پر ان کا کتنا اثر ہے۔ اگر یہ بیان آٹھ ماہ پہلے آتا تو بہت اچھا ہوتا ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ اشتعال نگیز بیانات سے وزیر اعظم کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔شاہی امام نے صدر امریکہ کے گزشتہ کل کے بیان کو سراہا جس میں انہوں نے کہا کہ چند دہشت گرد ایک ارب مسلمانوں کے ترجمان نہیں ہیں اور ہماری لڑائی شدت پسندوں سے ہے۔ شاہی امام نے کشمیر میں نئی حکومت سازی کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ جو بھی حکومت بنے اسے کشمیری عوام کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیئے چونکہ وہ ہندوستانی ہیں اور ہرہندوستانی حکومت کو اپنے عوام سے ہمدردی رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر کی ترقی امن و امان و خوشحالی میں اضافہ ہوسکے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT