Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں بالواسطہ جنگ کو پاکستان کی تائید برقرار

جموں و کشمیر میں بالواسطہ جنگ کو پاکستان کی تائید برقرار

نئی دہلی ۔ 15 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں ’’نازک امن‘‘ کو بہت مشکلات اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے اور اس کا بہر صورت تحفظ کیا جانا ضروری ہے ۔ فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے پاکستان پر ریاست میں بالواسطہ جنگ کی تائید کا الزام عائد کیا۔ 67 ویں آرمی ڈے کے موقع پر جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ س

نئی دہلی ۔ 15 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں ’’نازک امن‘‘ کو بہت مشکلات اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے اور اس کا بہر صورت تحفظ کیا جانا ضروری ہے ۔ فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے پاکستان پر ریاست میں بالواسطہ جنگ کی تائید کا الزام عائد کیا۔ 67 ویں آرمی ڈے کے موقع پر جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال فوج کیلئے چیلنجس سے بھرپور رہا اور وہ وسیع تر زمینی سرحدات پر بیرونی خطروں کا موثر مقابلہ کرنے میں مصروف رہی۔ داخلی سلامتی کے چیلنجس سے بھی فوج نے موثر طور پر نمٹا اور اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی عہد کی تعمیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ فوج کی کارکردگی اور اس کا دائر کار تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سیکوریٹی چیلنجس کافی بڑھ گئے ہیں اور زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا کہ یہاں سیکوریٹی کی صورتحال اگرچہ مستحکم ہے لیکن صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں رائے دہندوں کی کثیر تعداد نے اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ سیکوریٹی سسٹم پر انہیں پورا بھروسہ ہے۔ دہشت گردی سے لاحق چیلنجس کے بارے میں جنرل دلبیر سنگھ نے خبردار کیا کہ دہشت گردوں کے ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں حملے اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ سرحد پار دہشت گرد انفراسٹرکچر کافی مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالواسطہ جنگ کو پاکستان کی مسلسل تائید حاصل ہے۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت امن کی جو نازک صورتحال ہے ، وہ بھاری قیمت پر حاصل کی گئی ہے ، ہمیں ملکر اسے مزید مضبوط بنانا ہوگا ۔ چین کے ساتھ سرحد کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ باہم روابط میں بہتری کے باعث ایک دوسرے پر اعتماد کی فضاء سازگار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افواج بشمول بارڈر پوسٹ کے مابین باہمی تبادلہ خیال میں اضافہ ہوا ہے اور فلیگ میٹنگس ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی علاقہ میں صورتحال پرامن اور قابو میں ہے۔ تاہم غیر قانونی تارکین وطن ،

بین قبائلی دشمنی، ترقی کی سست رفتار اور بیرونی معاونت ہنوز ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ ہمیں اس صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ مل کر کئی اہم مقاصد حاصل کئے ہیں اور جنگ کے میدان میں کامیابی کو یقینی بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں افواج باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کیلئے موثر اقدامات یقینی بنارہے ہیں۔ فوج کو جنگی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اس کا بنیادی مقصد ہے۔
فوج کے حوصلہ کو وز یراعظم کا خراج تحسین
وزیراعظم نریندر مودی نے آج آرمی ڈے کے موقع پر فوج کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور بہادری کو سلام کیا۔ انہوں نے اپنے پیام میں کہا کہ فوج کی بہادری اور ان کے حوصلہ پر ملک کو فخر ہے۔ آرمی ڈے کے موقع پر وہ تمام کو سلام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ آرمی ڈے ہر سال 15 جنوری کو منایا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT