Monday , December 18 2017
Home / سیاسیات / جموں و کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

جموں و کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ کا بیان ‘ بی جے پی کی جانب سے ایسی کوئی تجویز وصول ہونے کی تردید
سرینگر ۔17جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) نیشنل کانفرنس قائد و سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج بی جے پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کیلئے کسی بھی اتحاد سے امکانات کو مسترد کردیا جب ک ان کے والد فاروق عبداللہ نے اپنے کل کے بیان سے دستبرداری اختیار کرلی اور کہا کہ انہوں نے ایسے کسی امکان کی تجویز پیش نہیں کی تھی ۔ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ اُن کی پارٹی اقتدار کی بھوکی نہیں ہے اور ایسا کوئی نظریاتی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اقتدار کی بھوکی نہیں اور ایسے سیاسی اقتدار میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جو نظریاتی سمجھوتہ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہو ۔ انہوں نے ایک سال قبل بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے امکانات کو مسترد کردیا تھا اور ایسا کرنے کی وجوہات ہنوز برقرار ہیں ۔ اپنے سرکاری فیس بک کے صفحہ پر عمر عبداللہ نے کہا کہ فاروق عبداللہ کے بیانات ایک فرضی سوال کے جواب میں دیئے گئے تھے جس کی بنیاد ایک فرضی صورتحال پر تھی ۔ انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ان کی حکومت بی جے پی کی تائید کرے گی ۔ انہوں نے صرف یہ کہاکہ اگر ایسی کوئی درخواست یا تجویز بی جے پی کی جانب سے وصول ہوتی ہے تو وہ اس کو پارٹی کی مجلس عاملہ میں عمل سے پہلے پیش کیا جائے گا ۔ دریں اثناء فاروق عبداللہ نے اپنے کل کے بیان سے دستبرداری اختیار کرلی اور اسمبلی کی تحلیل اور تازہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخلوط اتحاد کے شرکاء پی ڈی پی اور بی جے پی جموں و کشمیر میں حکومت تشکیل دینے سے قاصر رہیں تو ریاستی اسمبلی تحلیل کر کے تازہ اسمبلی انتخابات منعقد کئے جانے چاہیئے

۔ وہ ایک تقریب کے دوران علحدہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے اُن کے بیان پر تبصرہ کی خواہش پر جس میںانہوں نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے ان سے ربط پیدا کرتی ہے تو ’’ ان کے دروازہ کھلے تھے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اُن کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیئے کیونکہ اُن کے پاس درکار اکثریت موجود ہے ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ اُن کی پارٹی مجلس عاملہ میں ایسی کسی بات پر تبادلہ خیال کرسکتی ہے ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اُن کی پارٹی کے 15 ارکان اسمبلی ہیں اور ان کے ساتھ حکومت تشکیل نہیں دی جاسکتی ۔ اگر کوئی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کرنا ہو تو ہمیں مزید افراد کی ضرورت ہوگی ۔ فاروق نے کہا کہ وہ فیصلے کرنے والی شخصیت نہیں ہے ‘ فیصلے کرنے ہائی کمان کا کام ہے ۔ انہوں نے صرف  مخلوط اتحاد کے حلیفوں بی جے پی اور پی ڈی پی کو اپنے اختلافات دور کرنے اور مزید تاخیر کے بغیر حکومت تشکیل دینے کا مشورہ دیا تھا ۔ کیونکہ سرحدی ریاست میں تعطل کی کیفیت نامناسب ہے ۔آج کے اخبارات میں فاروق عبداللہ کا بیان شائع ہواتھا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی تشکیل حکومت کے لئے نیشنل کانفرنس سے ربط پیدا کریں تو اس پر غور کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT