Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کے آثار

جموں و کشمیر میں تشکیل حکومت کے آثار

مرکز کے رویہ میں نرمی ، پی ڈی پی کے مطالبات تسلیم ، رام مادھو کی پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چھ ہفتہ طویل سیاسی تعطل جو جموں و کشمیر میں جاری تھا، ایسا معلوم ہوتا ہیکہ آج ختم ہوجائے گا۔ بی جے پی نے تعین مدت کے ساتھ اقل ترین مشترکہ پروگرام کے بعض حصوں کو نافذ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ دونوں فریقین اپنا اتحاد جاری رکھنے کے سلسلہ میں مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو کل بذریعہ طیارہ سرینگر سے مختصر سے دورہ پر یہاں پہنچے تھے اور انہوں نے پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی سے بات چیت کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ گذشتہ سال مارچ میں جو اتحاد گذشتہ سال مارچ میں قائم ہوا تھا، جاری رہے گا اور اس کی بنیاد سابقہ انتظامات ہوں گے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت مثبت تھی۔ دونوں فریقین نے مثبت رویہ اختیار کیا ہے جس سے ریاست کو فائدہ ہوگا۔ 8 تا 9 ماہ قدیم حکومت کے انتظامات کی بنیاد پر نئی حکومت جو مستحکم ہوگی، تشکیل دی جائے گی۔ یہی نقطہ نظر دونوں فریقین کا ہے اور مجھے امید ہیکہ سابقہ انتظامات جاری رہیں گے۔ پی ڈی پی قائدین عنقریب دہلی کا دورہ کریں گے اور بی جے پی قائدین کے ساتھ ان مسائل پر بات چیت کریں گے۔ علاوہ ازیں حکومت کے بارے میں اندیشوں کا ازالہ کرنے کیلئے وزراء کے ناموں کو بھی قطعیت دیں گے حالانکہ انہوں نے مسائل میں مداخلت سے انکار کیا لیکن سمجھا جاتا ہیکہ پی ڈی پی متنازعہ مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون کی تنسیخ کا پرزور مطالبہ کررہی ہے اور چاہتی ہیکہ مدت کا تعین کرتے ہوئے علحدگی پسندوں سے بھی بات چیت کی جائے ۔ بی جے پی قائد نے ان اخباری اطلاعات کی تردید کردی جس کے بموجب بی جے پی خصوصی قانون کی تنسیخ سے اتفاق کرچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ۔ ریاست جموں و کشمیر میں گذشتہ 40 دن سے سیاسی تعطل جاری تھا کیونکہ محبوبہ مفتی نے اپنا موقف سخت کرلیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT