Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں تمام فریقین کیساتھ ’’بامقصد مذاکرات ‘‘

جموں و کشمیر میں تمام فریقین کیساتھ ’’بامقصد مذاکرات ‘‘

جموں۔ 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومتِ جموں و کشمیر تمام داخلی فریقین بشمول سیاسی گروپس سے بلالحاظ ان کے نظریات و ترجیحات ’’بامقصد مذاکرات‘‘ شروع کرے گی۔ گورنر این این ووہرا نے آج ریاستی مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی مخلوط حکومت بامقصد اور ٹھوس مذاکرات شروع کرنے میں معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ

جموں۔ 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومتِ جموں و کشمیر تمام داخلی فریقین بشمول سیاسی گروپس سے بلالحاظ ان کے نظریات و ترجیحات ’’بامقصد مذاکرات‘‘ شروع کرے گی۔ گورنر این این ووہرا نے آج ریاستی مقننہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی مخلوط حکومت بامقصد اور ٹھوس مذاکرات شروع کرنے میں معاونت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام داخلی فریقین سے یہ مذاکرات ہوں گے جن میں سارے سیاسی گروپس شامل ہیں۔ ان گروپس کی نظریاتی رائے اور ان کی ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مذاکرات شروع کئے جائیں گے۔ اس کا مقصد جموں و کشمیر کے تمام اہم مسائل کی یکسوئی کے لئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا حوالہ دیتے ہوئے ووہرا نے کہا کہ مخلوط حکومت یہی طرز عمل اختیار کرے گی۔ حکومت کا مقصد یہ ہوگا کہ یہاں امن قائم ہو اور سماجی ترقی یقینی ہو۔ اس ضمن میں مخلوط حکومت مبسوط سیاسی پیشرفت کرے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اٹل بہاری واجپائی کی زیرقیادت پیشرو این ڈی اے حکومت نے تمام سیاسی گروپس بشمول حریت کانفرنس سے ’’انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت‘‘ کے اصول پر مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت مرکز کے ان اقدامات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن و ترقی کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ گورنر نے کہا کہ اس کا مقصد موزوں اعتماد کی بحالی ہوگا جس سے ہمارے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔

کشمیر سے نقل مقام کرنے والے پنڈتوں کی واپسی کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کو مزید مستحکم اور بہتر بنانے کے لئے حکومت کشمیری پنڈتوں کی پورے وقار اور حق کے ساتھ واپسی کو یقینی بنائے گی۔ اس ضمن میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ، پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے 1947ء، 1965ء اور 1971ء پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کیلئے ایک مرتبہ قطعی مہلت کی فراہمی کے اقدامات کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے سیلاب کے راحت کاری اور برقی پراجیکٹس سے مقامی عملہ کو ہٹائے جانے کے مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے گورنر کی تقریر کے دوران شوروغل کیا۔ نیشنل کانفرنس رکن علی محمد ساگر اور کانگریس لیجسلیٹیو پارٹی لیڈر نواز رگزن جورا کی زیرقیادت ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور یہ مسائل اٹھاتے ہوئے گورنر کے خطبہ کے دوران ہنگامہ آرائی کی۔

TOPPOPULARRECENT