Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں دہشت گردحملہ ‘راجیہ سبھا میں حکومت کا بیان متوقع

جموں و کشمیر میں دہشت گردحملہ ‘راجیہ سبھا میں حکومت کا بیان متوقع

نئی دہلی 20 مارچ(سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوا کے پولیس اسٹیشن پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بارے میں بیان دیں گے ۔ یہ مسئلہ ایوان میں آج اٹھایا گیا ۔قائد اپوزیشن کانگریس کے غلام نبی آزاد نے اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ملازمین پولیس اور ایک فوجی کے علاوہ بعض شہری دہشت گرد

نئی دہلی 20 مارچ(سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوا کے پولیس اسٹیشن پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بارے میں بیان دیں گے ۔ یہ مسئلہ ایوان میں آج اٹھایا گیا ۔قائد اپوزیشن کانگریس کے غلام نبی آزاد نے اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ملازمین پولیس اور ایک فوجی کے علاوہ بعض شہری دہشت گرد حملے میں زخمی ہوگئے ۔ وہ چاہتے تھے کہ مرکزی وزیر داخلہ ایوان کو صورتحال کی تفصیلات سے واقف کروائیں ۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر مرکزی وزیر داخلہ سے تبادلے خیال کرچکے ہیں۔ ان کا احساس ہے کہ جب انکاونٹرس جاری ہیں تو ان کا کوئی بیان دینا مناسب نہیں ہوگا ۔

نائیڈو نے کہا کہ اس مسئلہ کے خاتمہ کے بعد مرکزی وزیر داخلہ بیان دیں گے ۔ قبل ازیں بی ایس پی کے ستیش چندر مشرا نے یو پی میں وکلاء کے احتجاج کا مسئلہ اٹھایا جبکہ الہ آباد میں اُن کے ایک ساتھی کا قتل کردیا تھا ۔ ٹاملناڈو کی پارٹیاں وزیر خارجہ سشما سواراج سے سری لنکا کے بارے میں وزارتی بیان کی خواہاں تھی۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کل شام دیر گئے تک موجود تھے لیکن انہوں نے اس لئے بیان نہیں دیا کیونکہ قانون سازی کی کارروائی میں مصروف تھے ۔ نائب صدر نشین پی جے کورین نے کہا کہ انہیں سشما سواراج نے اطلاع دی ہے کہ وہ شہر سے باہر ہیں۔ وہ واپسی کیلئے تیار ہیںتا کہ وضاحتی بیان دے سکیں اس لئے متعلقہ وزیر کو ملزم قرار دینا درست نہیں ہے۔جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب ضلع کٹوا میں دہشت گردحملے میں آج جموں و کشمیر اسمبلی کے اجلاس کو دہلا کر رکھ دیا ۔

اپوزیشن ارکان نے اس واقعہ کے بارے میں حکومت کے اقدامات کے بارے میں جاننا چاہا کہ اس نے حملے کو ناکام بنانے کیلئے کیا کیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے ایوان کو اطلاع دی کہ دو یا تین زبردست مسلح عسکریت پسند راج پورہ پولیس اسٹیشن کٹوا میں زبردستی داخل ہوگئے اور اب بھی پولیس اسٹیشن میں محصور ہیں۔ پولیس اور سی آر پی ایس نے علاقہ کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔ اپوزیشن کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے اس بیان کو غیر اطمینان بخش قرار دیا ۔نیشنل کانفرنس نے اس سلسلہ میں ایک قرار داد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کا حملہ فدائین حملہ تھا اور وہ سرحد پار سے کل رات کٹھوا میں در اندازی کے ذریعہ آئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوجیوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT