Tuesday , December 18 2018

جموں و کشمیر میں مقامی اقدامات سے پہلے اندیشے

SRINAGAR, JAN 14 (UNI) Security forces petroling at Malroo village on Srinagar-Bandipora highwayon Sunday where militants planted an Improvised Explosive Device, which was later safely defused. UNI PHOTO-134U

تمام سیاسی پارٹیوں کا اظہار خیال ‘بنددوکانوں کے شٹرس پر نعرے تحریر

سرینگر۔14جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں نے آئندہ پنچایت انتخابات سے پہلے صیانتی اندیشوں کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال انتخابات کے انعقاد کیلئے ماحول سازگار نہیں ہے ۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں پنچایت انتخابات کے 15فبروری کو انعقاد کا اعلان کیا ہے اور ان کیلئے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ تاہم امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں بشمول نیشنل کانگریس ‘ جموں و کشمیر پردیش کانگریس اور دیگر پارٹیوں کو اس اعلان پر پریشانی لاحق ہوگئی ہے ۔ انہوں نے ریاست کی نظم و ضبط کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں ایک آڈیوکلپ میں حزب المجاہدین کے عسکریت پسند کو ایک کارکن کی آنکھوں میں تیزاب ڈالتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو آئندہ پنچایت انتخابات میں امیدوار تھا ۔ اس آڈیو جھلکیوں کو سماجی ذرائع ابلاغ پر شائع کرنے کے بعد تمام امیدواروں میں دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ انتخابات میں مقابلہ کرنے سے خوفزدہ نظر آرہے ہیں ۔ علحدگی پسندوں نے بھی انتخابات کا مقاطعہ کرنے کی عوام سے اپیل کی ہے ۔ صدرنشین اے جے کے پی سی نے کہا کہ پنچایت انتخابات کا جموں و کشمیر کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے جسے مسئلہ کشمیر سے مربوط نہیں کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ 16 ارکان پنچایت ہلاک اور دیگر 20 حالیہ برسوں میں زخمی ہوچکے ہیں اس لئے 2011ء میں انتخابات منعقد نہیں کئے گئے ۔ ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی نیشنل کانفرنس نے نظم و ضبط کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسے پُرتشویش قرار دیا اور انتخابات ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ۔ دریں اثناء وادی کشمیر میں صرف دیواروں پر ہی نہیں بلکہ بند دوکانوں کے شٹروں پر بھی نعرے تحریر دکھائی دے رہے ہیں ۔ سیاسی سائنسداں مونیتا چڈھا باہرا جو 25سال سے زیادہ عرصہ سے اس شورش زدہ علاقہ میں سرگرم ہیں کہا کہ آپ کو ان نعروں کو سمجھنے کیلئے اپنا تحقیقاتی کام ہر بار ازسرنو شروع کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مرتبہ انہوں نے وادی کشمیر میں بند دکانوں کے شٹروں پر اس علاقہ کے عوام کے رجحان کا پتہ لگانے کی کوشش کی تھی ‘ اس بار انہوں نے بند دکانوں کے شٹروں کی تصویریں حاصل کر کے ان کا مشاہدہ کیا ہے جس سے انہیں کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔ بیشتر نعرے انتخابات کے پیش نظر ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ راتوں رات سنگباری کرنے والے مختلف راستے پر یعنی سڑکوں پر نعرے تحریر کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT