Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں پائیدار امن کی بحالی کیلئے مسئلہ کی سیاسی یکسوئی ضروری

جموں و کشمیر میں پائیدار امن کی بحالی کیلئے مسئلہ کی سیاسی یکسوئی ضروری

خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کو سربراہ فوج جنرل بپن راوت کا انٹرویو ‘ فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی پیشرفت کا مشورہ
نئی دہلی ۔14جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے سیاسی اقدام بھی فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیئے ۔ سربراہ فوج جنرل بپن راوت نے آج سرحد پار دہشت گردی کے انسداد کیلئے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے سیاسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔ جنرل راوت نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے دفاعی کارروائی کے ساتھ ساتھ حکمت عملی بھی ضروری ہے ۔ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ سربراہ فوج نے کہا کہ سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں کے انسداد کیلئے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی بھی ضروری ہے ۔ اس سے واضح طور پر نشاندہی ہوتی ہے کہ فوج نے عسکریت پسندی کے بارے میں اپنی حکومت عملی تبدیل نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اقدامات کے علاوہ فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اقدام بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح ہم وادی کشمیر میں پایہ دار امن بحال کرسکتے ہیں ۔ سیاسی ۔ فوجی رویہ اختیار کیا جانا چاہیئے ۔ اکٹوبر میں حکومت نے سابق محکمہ سراغ رسانی کے سربراہ دنیشور شرما کو اپنے خصوصی نمائندہ کی حیثیت سے جموں و کشمیر میں دلچسپی رکھنے والے تمام فریقین سے بات چیت کیلئے روانہ کیا تھا ۔جب حکومت ایک ثالث کا تقرر کرتی ہے جس کا مقصد وادی میں امن بحال کرنا ہے تو حکومت کے نمائندے کا فرض ہے کہ وادی کشمیر کے عوام سے ربط پیدا کریں اور یہ دیکھیں کہ ان کی شکایات کی سیاسی سطح پر یکسوئی ہوجائے ‘ اس سوال پر کہ کیا پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کی گنجائش ہے ‘ تاکہ دہشت گردوں کے ریاست میں داخلے کو روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جوں کی توں حالت برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ مسلسل طور پر پیشرفت کرتے رہنا چاہیئے لیکن ہمیں اپنے نظریات اور تصورات وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ تبدیل کرنا چاہیئے ۔ جنرل راوت نے کہا کہ فوج کو دفاعی حکمت عملی صورتحال کے مطابق تبدیل کرنی چاہیئے ‘ ساتھ ہی ساتھ بحیثیت مجموعی کشمیر کے مسئلہ کی یکسوئی بھی ضروری ہے ۔ گذشتہ سال کے آغاز سے فوج انسداد دہشت گردی پالیسی کے تحت جموں و کشمیر میں جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھی ۔ساتھ ہی ساتھ جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے ۔ فوج کو مسئلہ کشمیر کی یکسوئی میں شرکت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ دہشت گردوں کو جو ریاست میں تشدد برپا کرتے ہیں گرفتار کریں اور جو لوگ بنیاد پرستی کی تعلیم دیتے ہیں اور دہشت گردی کی سمت پیشرفت کی ترغیب دیتے ہیں انہیں ایسا کرنے سے روکیں ۔

TOPPOPULARRECENT