Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / جموں و کشمیر میں کل تیسرے مرحلہ کی رائے دہی‘ پی ڈی پی اقتدار پر واپسی کیلئے کوشاں

جموں و کشمیر میں کل تیسرے مرحلہ کی رائے دہی‘ پی ڈی پی اقتدار پر واپسی کیلئے کوشاں

سری نگر۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ اور ان کی کابینہ کے 3 رفیق کی قسمت کا فیصلہ ریاست میں ہونے والے تیسرے مرحلہ کی رائے دہی میں ہوجائے گا۔ ان حلقوں میں گزشتہ مرتبہ 16 حلقوں کے منجملہ 9 نشستوں پر پی ڈی پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات میں پی ڈی پی بحیثیت اپوزیشن پارٹی رائے دہندوں سے رجوع ہوکر ووٹ

سری نگر۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ اور ان کی کابینہ کے 3 رفیق کی قسمت کا فیصلہ ریاست میں ہونے والے تیسرے مرحلہ کی رائے دہی میں ہوجائے گا۔ ان حلقوں میں گزشتہ مرتبہ 16 حلقوں کے منجملہ 9 نشستوں پر پی ڈی پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات میں پی ڈی پی بحیثیت اپوزیشن پارٹی رائے دہندوں سے رجوع ہوکر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اس کو اُمید ہے کہ وہ دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی۔ منگل کو ہونے والی رائے دہی میں 3 اضلاع بڈگام، پلوامہ اور بارہمولہ میں پھیلے ہوئے 16 اسمبلی حلقوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے جس میں 6.51 لاکھ خواتین کے بشمول 13.69 لاکھ رائے دہندے ووٹ ڈالیں گے۔ یہ رائے دہندے 144 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ ان میں چیف منسٹر اور ان کے 3 کابینی رفیق اور دیگر 10 موجودہ ارکان اسمبلی میں شامل ہیں۔

عمر عبداللہ اس مرتبہ اپنے خاندانی گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ کندربل کی بجائے بڈگام میں بیرواہ سے مقابلہ کررہے ہیں۔ انھیں توقع ہے کہ اس علاقہ میں ان کی حکومت کی جانب سے کئے گئے حالیہ اقدامات کے باعث ووٹ حاصل ہوں گے۔ یہاں پر گزشتہ دو انتخابات میں پی ڈی پی کے امیدواروں کو ہی کامیابی ملتے آرہی تھی۔ عمر عبداللہ حکومت نے اس علاقہ میں دیگر کئی فیصلے کرنے کے علاوہ فوج کے لئے لیز کی مہلت میں توسیع نہیں دی تھی۔ فوج کو اس علاقہ میں فائرنگ کی مشق کرنے کی اجازت دینے کی مقامی عوام نے شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد عمر عبداللہ حکومت نے یہ لیز ختم کردی۔ عوام کو عمر عبداللہ حکومت کے اس فیصلہ سے راحت ملی ہے۔ انھوں نے مقامی عوام کو یہ بھی تیقن دیا تھا کہ اس علاقہ سے فوج کے اثر کو برخاست کردیا جائے گا۔

یہاں پر ماضی میں فائرنگ کی زد میں آکر دو دہوں کے دوران 60 سے زائد جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ عمر عبداللہ اس علاقہ میں تیزی سے مہم چلارہے ہیں۔ ان کی نیشنل کانفرنس پارٹی کے سینئر قائدین اور شیعہ طبقہ کے مقبول قائدین آغا روح اللہ اور آغا سید محمود ان کی حمایت میں مہم چلارہے ہیں۔ ان قائدین کا ان نشستوں پر غیر معمولی اثر دیکھا گیا ہے۔ عمر کو اپنی حریف پارٹی پی ڈی پی کے رکن اسمبلی محمد شفیع وانی سے سخت مقابلہ کا سامنا ہے۔ عمر سے زیادہ تیسرے مرحلہ کی پولنگ اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اس نے اس علاقہ کی 16 کے منجملہ 9 حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اب ریاست میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT