Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر میں گورنر راج

جموں و کشمیر میں گورنر راج

پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد ختم ہونے پر ریاست میں عوام کا جشن

نئی دہلی / سرینگر ۔ /20 جون (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں آج گورنر راج چوتھی مرتبہ نافذ کردیا گیا۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر نے ریاست جموں و کشمیر میں فوری اثر کے ساتھ گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ جموں و کشمیر میں سیاسی تبدیلیاں صدر رام ناتھ گووند کی منظوری کے بعد اور گورنر جموں و کشمیر این این ووہرا کی رپورٹ راشٹرپتی بھون کو روانہ کرنے کے بعد مسلسل جاری رہیں ۔ گورنر کی رپورٹ کی تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں ۔ گورنر کی رپورٹ راشٹرپتی بھون پہونچنے کے فوری بعد مرکزی وزیر داخلہ نے صدر جمہوریہ کو ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تائید کردی ۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب جموںو کشمیر حکومت کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گورنر این این ووہرا نے سیول اور پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کے ساتھ مرکزی سکریٹریٹ میں ایک اجلاس منعقد کیا اور ریاست کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ چیف سکریٹری بی بی ویاس کے ساتھ انہوں نے تبادلہ خیال بھی کیا ۔ بعد ازاں ووہرا نے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں پولیس اور سیول انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے شرکت کی ۔ نیشنل کانفرنس نے جو ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اندیشہ ظاہر کیا کہ فوجی کارروائی کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی ناممکن ہے ۔ مسئلہ کا حل صرف پرامن طور پر بات چیت کے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے ۔ جبکہ لکھنؤ میں موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ مرکزی حکومت دہشت گردی کا خاتمہ اور ریاست جموں وکشمیر میں پرامن ماحول پیدا کرنے کی خواہاں ہے ۔ اس لئے دہشت گردی کے خاتمہ تک ریاست میں فوجی کارروائی جاری رہے گی ۔ گورنر راج کے دوران بھی اس پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا ۔ دریں اثناء پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط حکومت کے اقتدار سے بے دخل ہونے پر وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں جشن منایا گیا ۔ حالانکہ بعض افراد نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ گورنر راج کے دوران شفافیت کی قلت ہوگی اور ریاست کی صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی ۔ بی جے پی نے کل پی ڈی پی کے ساتھ تشکیل کردہ مخلوط حکومت سے دستبرداری اختیار کرلی تھی جس کے بعد چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے آج صبح ریاستی گورنر کو اپنا استعفی پیش کردیا اور صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی منظوری کے فوری بعد ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا ۔ سری نگر کے ایک شہری نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت ناپاک نہیں تھی ۔

40 سال میں 8 مرتبہ گورنر راج
جموں وکشمیر میں گورنر راج کی طویل تاریخ رہی ہے ۔ گزشتہ 40 سال میں یہ آٹھواں واقعہ ہے ۔ پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد ٹوٹنے کے بعد ریاست میں پھر ایک بار آج سے گورنرراج نافذ ہوگیا ۔
(1) پہلی مرتبہ 1977 ء میں 105 دن کیلئے گورنر راج
شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس سے کانگریس کی حمایت واپس لینے کے بعد /26 مارچ 1977 ء کو ریاست میں گورنر راج نافذ ہوا تھا ۔
(2) دوسری مرتبہ /6 مارچ 1986 ء ، 246 دن گورنر راج
/5 مارچ 1986 ء کو کانگریس نے پھر ایک مرتبہ تائید سے دستبردار ہوئی تو غلام محمد شاہ کی حکومت گرگئی تھی ۔
(3) /19 جنوری 1990 ء 6 سال 264 دن گورنر راج
جموں و کشمیر میں سب سے طویل گورنر راج 1990 ء میں تھا جگن موہن ملہوترا کو گورنر کے طور پر تعیناتی کے خلاف چیف منسٹر فاروق عبداللہ نے استعفیٰ دیدیا تھا ۔ یہاں 6 سال 264 دن تک گورنر راج رہا ۔ 1996 ء میں انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس کامیاب ہوکر دوبارہ اقتدار پر آئی ۔
(4) چوتھی مرتبہ /18 اکٹوبر 2002 ء میں 15 دن کیلئے گورنر راج
(5) پانچویں مرتبہ /11 جولائی 2008 ء 78 دن کیلئے ۔
(6) چھٹویں مرتبہ /9 جنوری 2015 ء میں گورنر راج
(7) ساتویں مرتبہ /8 جنوری 2016 ء میں گورنر راج
(8) آٹھویں مرتبہ 2018 ء کو محبوبہ مفتی کے استعفیٰ کے بعد گورنر راج

TOPPOPULARRECENT