Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر میں 527 بند اسکولوں کا احیا

جموں و کشمیر میں 527 بند اسکولوں کا احیا

جموں۔ یکم جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت جموں و کشمیر نے ریاست کے ضلع ریاسی میں تقریباً 527 اسکولوں کو جو کہ فنڈز کی قلت اور دیگر سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے بند ہوگئے تھے انہیں دوبارہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں مقامی افراد کا تعاون اور دیگر سرکاری اسکیمات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ریاسی ڈپٹی کمشنرشاہد اقبال نے آج کہا کہ

جموں۔ یکم جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت جموں و کشمیر نے ریاست کے ضلع ریاسی میں تقریباً 527 اسکولوں کو جو کہ فنڈز کی قلت اور دیگر سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے بند ہوگئے تھے انہیں دوبارہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس میں مقامی افراد کا تعاون اور دیگر سرکاری اسکیمات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ریاسی ڈپٹی کمشنرشاہد اقبال نے آج کہا کہ ضلع میں 2013-14 میں مجموعی طور پر 593 اسکولوں کی تعمیر کی گئی تھی جس میں سے527 پراجکٹس پر 2006سے 2012 کے درمیان کام کیا گیا۔ تاہم ان تعمیراتی اُمور کو مکمل نہیں کیا گیا تھا جس کی اہم وجہ مطلوبہ فنڈ کی عدم دستیابی اور ولیج ایجوکیشن کمیٹی کا عدم معاہدہ اور دیگر مشکلات کا اہم رول رہا ہے۔

سروا سکھشا ابھیان کے تحت جو فنڈز منظور کئے گئے تھے وہ 527پراجکٹس میں سے 338 اسکولوں کی عمارتوں کیلئے ہی ناکافی ثابت ہوئے جس کے نتیجہ میں مطلوبہ تخمینہ کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ طالبات کیلئے تقریباً238 بیت الخلاء تعمیر کئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال نے آج یہ تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہاکہ سروا سکھشا ابھیان کے تحت ایسے اسکول کی تعمیر کیلئے 6.87لاکھ روپئے منظور کئے گئے تھے جبکہ تخمینی لاگت اس پہاڑی علاقہ میں کہیں زیادہ ہے جوکہ 9.25لاکھ سے لیکر 10.15لاکھ کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ دوسری طرف ولیج ایجوکیشن کمیٹی نے منظوری کے باوجود اضلاع میں پچھلے سات سال سے ایسے اسکولوں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کا اظہار کیاہے نتیجتاً مطلوبہ تعداد کی تکمیل نہیں کی جاسکی۔

مذکورہ ڈپٹی کمشنر نے ضلع کے تمام چھ تعلیمی زونس میں متواتر 30روز تک مقامی ایجوکیشنل کمیٹی کے ساتھ 500سے زائد اجلاس منعقد کئے اور انہیں اس طرح کے اسکولوں کی تعمیر کیلئے مطمئن کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں انہیں منریگا اسکیم کے تحت فنڈز فراہم کرتے ہوئے اسکولوں کی تعمیر میں حوصلہ افزائی کی۔ان کے اس اقدام کا کافی بہتر ردِعمل ظاہر ہوا، اور تقریباً 527 اسکولوں کا دوبارہ احیاء ہوا۔ مذکورہ ضلع میں زائد از 35ہزار طلبہ موجود ہیں جہاں تعلیمی شرح صرف 58فیصد درج کی گئی ہے جبکہ 35فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گذاررہی ہے۔ واضح رہے کہ زائد از 200اسکولس دو بڑے اضلاع میں تعمیر کئے گئے ہیں جس میں گلبرگ،گلاب گڑھ اور مہور شامل ہیں جوحالیہ عرصہ تک دہشت گردوں کا گڑھ رہا ہے ۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر نے مذکورہ اضلاع کے ہر ایک اسکول کیلئے فنڈز کو قطعیت دی اور ان اسکولوں کو منریگا اسکیم سے مربوط کرتے ہوئے مقامی کمیونٹیز کو ان اسکولوں کی جانب راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT