Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر میں 73 ویں آئینی ترمیم کے مطالبہ میں شدت

جموں و کشمیر میں 73 ویں آئینی ترمیم کے مطالبہ میں شدت

جموں ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ریاستی پنچایت مجلس نے آج سنگین نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دستور ہند میں 73 ویں ترمیم کے بل کو 3 فروری تک جموں و کشمیر اسمبلی میں متعارف کیا جائے ۔ آل جموں اینڈ کشمیر پنچایت کانفرنس (AJKPC) نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت منتخبہ سرپنچوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کر رہی ہے

جموں ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ریاستی پنچایت مجلس نے آج سنگین نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دستور ہند میں 73 ویں ترمیم کے بل کو 3 فروری تک جموں و کشمیر اسمبلی میں متعارف کیا جائے ۔ آل جموں اینڈ کشمیر پنچایت کانفرنس (AJKPC) نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت منتخبہ سرپنچوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کر رہی ہے اور انتباہ دیا کہ 73 ویں ترمیم کے اطلاق کیلئے وہ اپنے احتجاج میں شدت پیدا کریں گے ۔ AJKPC صدر انیل شرما نے کہا کہ ریاستی حکومت کچھ ایسے حالات پیدا کر

رہی ہے کہ 33,000 منتخبہ پنچوں اور سرپنچوں کے پاس سوائے اسکے کوئی اور متبادل نہ ہوگا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ لہذا اہم ح کومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 73 ویں آئینی ترمیم کا بل 5 فرور سے قبل ریاستی اسمبلی میں پیش کیا جائے ۔ بعد ازاں اسے منظر عام پر لاتے ہوئے آنے والے اسمبلی سیشن میں اسے منظور کیا جائے ۔ اس قانون کے ذریعہ ملک میں پنچایتی راج نظام کو بااختیار بنانا ہے اور AJKPC عرصہ دراز سے ریاست میں اس قانون کے اطلاق کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں 73 ویں ترمیم ہمیشہ ہی تنازعہ کی وجہ رہی ہے۔ کئی حکومتیں آئیں اور کئی چلی گئیں لیکن اب یہ تنازعہ ہنوز برقرار ہے۔ عمر عبداللہ نے حالانکہ اس مطالبہ تکمیل یا عدم تکمیل پر کوئی مثبت یا منفی اشارہ نہیں دیا ہے لیکن کہا جارہا ہے کہ تنازعہ شدت بھی اختیار کرسکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT