Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / جموں و کشمیر کو عظیم تر خود مختاری کی تائید: پی چدمبرم

جموں و کشمیر کو عظیم تر خود مختاری کی تائید: پی چدمبرم

New Delhi: Former Finance Minister and Congress leader P Chidambaram addresses a press conference at AICC in New Delhi on Wednesday. PTI Photo by Kamal Singh(PTI9_27_2017_000111A)

آزادی کے مطالبہ کا مقصد بھی یہی ہے : کانگریس لیڈر اور سابق وزیر فینانس کا بیان ، بی جے پی کا شدید ردعمل
راجکوٹ / نئی دہلی ۔ 28 ۔ اکٹوبر : (سیاست ڈاٹ کام ) : سینئیر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے بدامنی سے متاثرہ جموں و کشمیر کو عظیم تر خود مختاری کی پھر ایک بار تائید کی ۔ ان کے اس مطالبہ پر بی جے پی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے اسے افسوسناک اور شرمناک قرار دیا ۔ چدمبرم نے گجرات کے راجکوٹ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں دفعہ 370 کے حقیقی معنوں میں احترام کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عظیم تر خود مختاری چاہتے ہیں ۔ چدمبرم نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ملاقاتوں کے بعد انہوں نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ ہے کہ جب بھی آزادی کی بات کی جاتی ہے ان میں اکثریت کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ خود مختاری چاہتے ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی وہ سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو زیادہ خود اختیاری دی جائے ۔ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔ چدمبرم نے جولائی 1996 میں جموں و کشمیر کے لیے عظیم تر خود مختاری کی وکالت کی تھی اور کہا تھا کہ ہندوستان کو وہ عظیم تر خود مختاری بحال کرنی چاہئے جس کی بنیاد پر کشمیر کا انضمام عمل میں آیا تھا ۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔ بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چدمبرم کے اس طرح کے بیانات پر حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ ان کے لیڈر نے ایسے افراد کی بھی تائید کی تھی جنہوں نے ’ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ‘ کا نعرہ دیا تھا ۔ یہ اشارہ کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کی طرف ہے جنہوں نے جے این یو تنازعہ کے دوران اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار کی تائید کی تھی ۔ وہ اس وقت جے این یو ایس یو کے صدر تھے ۔ انہیں اور دیگر چند افراد کو کیمپس میں مبینہ طور پر مخالف قوم نعرے لگانے کی بناء ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کو پھانسی کے خلاف گزشتہ سال فروری میں احتجاجی مظاہرے کے دوران یہ نعرے لگائے گئے تھے ۔ مرکزی وزیر اطلاعات سمرتی ایرانی نے کہا کہ اس بات پر افسوس ہے کہ پی چدمبرم اب علحدگی پسندوں اور آزادی کی تائید کررہے ہیں ۔ لیکن ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کہ ان کے لیڈر نے ’ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ‘ نعرے کی تائید کی تھی ۔ انہوں نے کہا یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ چدمبرم نے گجرات میں یہ بیان دیا جو سردار پٹیل کا پیدائشی مقام ہے اور انہوں نے ملک کے اتحاد و خوشحالی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی ۔ چدمبرم نے کہا کہ عظیم تر خود مختاری کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور ہند کے دائرہ کار میں ہے اور جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہے گا ۔ لیکن دفعہ 370 کے تحت وعدہ کے مطابق اسے وسیع تر اختیارات حاصل رہیں گے ۔ سرینگر میں بی جے پی جنرل سکریٹری رام مادھو نے الزام عائد کیا کہ کشمیری عوام اور سارا ملک چدمبرم اور کانگریس حکومت کی غلطیوں کا بوجھ برداشت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے مشورے کی ضرورت نہیں ۔ موجودہ حکومت جموں و کشمیر کے بہی خواہوں سے مشورہ کرے گی اور مستقبل میں موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔

نوٹ بندی کیلئے مجبور کیا جائے تو مستعفی ہوجاتا
نوٹ بندی پر وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینئیر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے کہا کہ اگر انہیں نوٹ بندی پر عمل آوری کے لیے مجبور کیا جاتا تو وہ بحیثیت وزیر فینانس مستعفی ہوجاتے ۔ انہوں نے جی ایس ٹی پر جلد بازی میں عمل آوری اور بلٹ ٹرین پراجکٹ پر بھی تنقید کی ۔ چدمبرم نے کہا کہ اگر میرے وزیراعظم نوٹ بندی کے لیے کہتے تو میں انہیں مشورہ دیتا کہ ایسا نہ کریں ۔ اس کے باوجود اصرار کیا جاتا تو وہ مستعفی ہوجاتے ۔ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی اور پھر جلد بازی میں جی ایس ٹی مودی حکومت کی دو بڑی غلطیاں ہیں ۔انہوں نے نوٹ بندی کو بے وقوفانہ قدم اور جی ایس ٹی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت تباہ ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ گذشتہ سال کیا گیا نوٹ بندی کا اعلان ایک غلطی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شکل میں پیش کردہ جی ایس ٹی بھی غلط ہے ۔ ان دو اقدامات نے معیشت کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT