Thursday , December 13 2018

جموں و کشمیر کی ابتر صیانتی صورتحال پر اظہار تشویش، مخلصانہ کوشش ضروری

دنیشور شرما کی ہر ایک سے بات چیت رسمی کارروائی، عوام کی حالت ابتر، صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ کا بیان
جموں۔27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اغوا اور ہلاکتوں کی وارداتوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے جموں کشمیر کی صیانتی صورتحال کے ابتر ہوجانے پر اظہار تشویش کیا کیوں کہ حال ہی میں علاقائی فوجی جوان کو عسکریت پسندوں نے اغوا کرکے ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو اپنی جوابی کارروائی ازسرنو تشکیل دینی ہوگی اور اس علاقہ میں امن بحال کرنے کے لیے جوابی کارروائی کا نشانہ پڑوسی ملک افغانستان کو بھی بنانا ہوگا۔ علاقائی فوج کا ایک سپاہی جس کی عمر 23 سال تھی، جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان سے عسکریت پسندوں نے اسے اغوا کرلیا جبکہ وہ اپنی رخصت گزاررہا تھا۔ اس کی گولیوں سے چلنی نعش وٹملاکیگام علاقہ کے ایک باغ سے دستیاب ہوئی۔ فاروق عبداللہ نے مرکز کے خصوصی نمائندہ برائے کشمیر دنیشور شرما کی عوام سے ملاقاتوں کو ایک ’’رسمی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن اسی صورت میں بحال ہوسکتا ہے جبکہ مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ جموں و کشمیر میں امن کی بحالی کے دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں اور پلٹ منہ پر پڑرہے ہیں۔ کیوں کہ اغوا اور ہلاکتوں کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک اور فوجی کا اغوا اور ہلاکت واقع ہوئی۔ وہ ضلع کٹوا میں ایک تقریب کے دوران علیحدہ طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے سنگین صیانتی صورتحال کو سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی دراندازی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کو اپنی جوابی کارروائی میں پاکستان کو بھی شامل کرنا ہوگا اور یہی اس علاقہ کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔ تمام مسائل کا مبدا سرحد پار ہے۔ جو لوگ سرحد پر سکونت رکھتے ہیں، ان کی حالت وقفہ وقفہ سے شل باری کے نتیجہ میں قابل رحم ہوچکی ہے۔ ملک کو ان تمام کو اپنے اعتماد میں لینا ہوگا اور مرکز کو تمام مسائل کی پڑوسی ملک کے ساتھ یکسوئی کرنی ہوگی۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر پاکستان کی ملکیت ہے، اپنے اس بیان پر تنقیدوں کی پرواہ کیے بغیر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرسکتے ہیں کیوں کہ یہی حقیقت پسند حل ہوگا اور اس سے امن اور اعتماد کے ایک نئے دور کا اس علاقہ میں آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا موقف تبدیل نہیں ہوگا چاہے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کتنی بھی جنگیں کیوں نہ ہوں۔ خط قبضہ کو خط امن میں تبدیل کردینے سے عوام کے حالات زندگی سرحد کی دونوں طرف بہتر ہوجائیں گے اور خیرسگالی اور باہمی روابط کو فروغ حاصل ہوگا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے ایک خصوصی نمائندے برائے کشمیر کی بحیثیت ثالث عوام سے ملاقاتیں صرف رسمی کارروائی ہیں اور امن اس وقت تک ابھر نہیں سکتا جب تک کہ مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سرحدی جھڑپیں اور تشدد کی وجہ سے یہاں قیام کرنے والے مصائب اور خوف کی نفسیات کا شکار ہیں۔ سنگباری کرنے والوں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کی تجویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ مخلوط اتحاد خود بھی اس کے بارے میں غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ بعض اوقات وہ کہتے ہیں کہ سنگ باری کرنے والوں کو رہا کردیا جائے گا اور بعض اوقات وہ بچوں کو بھی بازآبادکاری مراکز روانہ کردیتے ہیں۔ سابق چیف منسٹر نے موجودہ مخلوط حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ راشن کی مقدار کم کی جاچکی ہے۔ راشن کے گوداموں میں گذائی اجناس کی قلت ہے۔ قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں، اشیائے ضروری اور پکوان گیاس غریبوں کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں۔ مرکز نے مالیہ فراہم کرنے کے دعوے کیے ہیں ان کی جانچ ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT