Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر کی صورتحال کا حکومت کی جانب سے جائزہ

جموں و کشمیر کی صورتحال کا حکومت کی جانب سے جائزہ

علحدگی پسندوں کا دھرنا ناکام ، میرواعظ اور یٰسین ملک گرفتار ، دو عسکریت پسندوں کی بھی گرفتاری ، شبیرشاہ پر رقم کی غیرقانونی منتقلی کا الزام
نئی دہلی ۔ 15 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) انسداد عسکریت پسندی کارروائی میں ریاست جموں و کشمیر میں مزید شدت پیدا کردی جائے گی ۔ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو لوگ ریاست میں تشدد میں ملوث ہوں ، اُن کاصفایہ کردیا جائے ۔ قبل ازیں حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاست کی صیانتی صورتحال کا جائزہ لیا تھا ، جہاں کئی فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ وزیر دفاع نرملا سیتا رامن ، مشیر قومی سلامتی اجیت دوول اور محکمہ داخلہ و دفاع کے اعلیٰ عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ فوج کو عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ۔ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی ، حالانکہ مرکزی حکومت نے اپنا خصوصی نمائندہ دنیشور شرما تمام دلچسپی رکھنے والوں سے بات چیت اور ریاست میں پائیدار امن کے قیام کے لئے مقرر کیا ہے۔ فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف وادی میں اپنی جارحانہ کارروائی شدید کردی ۔ ڈی جی پی ایس سی وید نے حال ہی میں کہا ہے کہ تقریباً 170 عسکریت پسند جاریہ سال فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے ۔ دو فوجی ہلاک ہوئے اور ایک سی آر پی ایف جوان پلوامہ کے انکاؤنٹر میں 2 نومبر کو زخمی ہوا۔ پلوامہ میں ہی ایک انکاؤنٹر میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیااور ایک فوجی 6 نومبر کو ہلاک ہوا ۔ مہلوکین میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے بھی شامل تھے ۔

9 نومبر کو عسکریت پسندوں نے ایک ملازم پولیس کو اننت ناگ میں فائرنگ کے ذریعہ زخمی کردیا ۔ دو پولیس گاڑیوں پر علحدہ واقعات میں قاضی گنڈہ اور اننت ناگ میں 10 نومبر کو فائرنگ کی گئی ۔ ایک فوجی ضلع پلگام میں کل انکاؤنٹر میں ہلاک ہوا ۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب علحدگی پسند قائدین میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کو آج پولیس نے حراست میں لے لیا جبکہ وہ ایک احتجاجی جلوس نکالنے اور شہر کے قلب میں دھرنا دینے کا ارادہ کررہے تھے۔ وہ وادی میں مبینہ طورپر جیلوں میں بند نوجوانوں کے ساتھ بدسلوکی اور عوام کی ہراسانی کے خلاف بطور احتجاج یہ جلوس نکالنے والے اور دھرنا دینے والے تھے۔ اُن کے کئی حامی بھی حراست میں لے لئے گئے ۔ دہلی کی ایک عدالت نے نقد رقم کی غیرقانونی منتقلی کے الزامات کشمیری علحدگی پسند قائد شبیرشاہ پر عائد کئے اور حوالہ ڈیلر محمد اسلم وانی کو 2005 ء کے ایک مقدمہ میں دہشت گردوں کو مالیہ فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا۔ ایڈیشنل سیشن جج سدھارتھ شرما نے فرد جرم عائد کیا۔ دونوں ملزمین نے مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنے بے قصور ہونے کا ادعا کیا ۔ 23 ستمبر کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے فرد جرم پیش کیا تھااور پاکستان میں مقیم دہشت گرد حافظ سعید کو ملزم قرار دیا تھا ۔ ایک اور اطلاع کے بموجب دو عسکریت پسند بشمول ایک زخمی ہوگیا ۔ اُنھیں ضلع پُلگام جنوبی کشمیر سے گرفتار کرلیا گیا ۔ ایک عسکریت پسند دیہات کنڈ اور دوسرا زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ وہ مبینہ طورپر فوج کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں زخمی ہوا تھا ۔ ایک فوجی اور ایک عسکریت پسند انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے ۔ پولیس نے ایک اور عسکریت پسند کو ضلع میں ناکہ کے معائنہ کے دوران گرفتار کرلیا ۔

TOPPOPULARRECENT