Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر کے عوام کو ملٹی انٹری ویزا کی تجویز

جموں و کشمیر کے عوام کو ملٹی انٹری ویزا کی تجویز

اعتماد سازی کے اقدامات پر پاکستان سے بات چیت، ہندوستانی تجاویز کی پیشکشی

اعتماد سازی کے اقدامات پر پاکستان سے بات چیت، ہندوستانی تجاویز کی پیشکشی
نئی دہلی ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لائن آف کنٹرول کے اس پار اعتماد سازی کے اقدامات کے ایک حصہ کے طور پر ہندوستان نے پاکستان کو کئی تجاویز پیش کئے ہیں جن میں جموں و کشمیر کے عوام کو متعدد مرتبہ داخلہ ویزا کی فراہمی بھی شامل ہے لیکن ہندوستان نے اوری سیکٹر میں منشیات کی مبینہ اسمگلنگ کے الزام کے تحت گرفتار شدہ ایک پاکستانی ڈرائیور کی رہائی کیلئے اسلام آباد کے مطالبہ کو مسترد کردیا۔ وزارت امورداخلہ میں ایک ترجمان نے سرحد پار سفر و تجارت کے موضوعات پر اس ہفتہ کے اوائل میں منعقدہ ہند۔پاک مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے کئی تجاویز پیش کئے ہیں جن میں سرحد پار تجارت اور سفری رابطہ میں بہتری اور سکردو ۔ کارگل بس سرویس کی بحالی کے مطالبہ کا اعادہ بھی شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو نقل و حرکت کی سہولت کی فراہمی کیلئے کئی مرتبہ داخلہ کے ویزا پر مشتمل ایک کتابچہ جاری کیا جائے فی الحال ان افراد کو صرف ایک مرتبہ داخلہ ویزا دیا جارہا ہے۔

اجلاس کے دوران ہندوستان نے اپنا یہ تجزیہ بھی بیان کیا کہ ہندوستانی علاقہ میں منشیات کی اسمگلنگ کا پتہ چلانے کی کوششوں میں پاکستان ناکام رہا ہے اور چنانچہ ایک معیاری طریقہ کار اور ضابطہ کو مستحکم بنانے کیلئے تبادلہ خیال کیا جائے۔ اس طریقہ کار کے تحت کارگو فہرست میں واضح طور پر شامل نہ کی جانے والی اشیاء کی منتقلی کو روکا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ایک ڈرائیور کی رہائی کا مسئلہ اٹھایا لیکن ہندوستان نے ادعا کیا کہ وہ مجرمانہ حرکت کیلئے قانون کا سامنا کررہا ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ ان تحقیقات میں معلومات فراہم کریں اور منشیات بھیجنے والوں کا نام بتایا جائے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ایک ڈرائیور کو کشمیر کے اوری سیکٹر میں 17 جنوری کو 100 کروڑ روپئے مالیتی براون شوگر کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ وزارت امورخارجہ میں جوائنٹ سکریٹری آر ٹنڈن نے ہندوستانی وفد کی قیادت کی جبکہ پاکستانی وفد کی نمائندگی ڈائرکٹر جنرل (جنوب ایشیاء) رفعت مسعود کی قیادت میں ایک وفد نے کی۔ جانبین نے عوام سے عوام کی سطح پر رابطہ میں اضافہ کیلئے میکانزم کے طریقوں کا پر تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں تجارتی مراکز پر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور تجارت کی شرح میں اضافہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT