Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / جموں و کشمیر کے مسائل کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کرنے کی ضرورت

جموں و کشمیر کے مسائل کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کرنے کی ضرورت

تمام جماعتوں سے مل کر کوشش کرنے کی خواہش ۔ موجودہ صورتحال پر اظہار تشویش و دکھ ‘ وزیراعظم کی اپوزیشن وفد سے بات چیت
نئی دہلی ۔22اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر کے عوام تک رسائی کی کوشش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے وہاں کی صورتحال پر ’’ گہری تشویش اور دکھ‘‘ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر جموں و کشمیر میں مسائل کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کرنے پر زور دیا ۔ مودی نے وادی میں عام حالات بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات ہونے چاہیئے ۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ کی زیرقیادت اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے آج وزیراعظم نریندر مودی سے تقریباً 75منٹ ملاقات کی ۔ بعدازاں سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزیراعظم نے وفد کی پیش کردہ تعمیری تجاویز کی ستائش کی اور عوام کی بہبود کے لئے حکومت کے عہد کا اعادہ کیا ۔ 20رکنی اس وفد میں عمرعبداللہ کے علاوہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کے سات ارکان اسمبلی ‘ پردیش کانگریس کمیٹی صدر جی اے میر کی زیرقیادت پارٹی ارکان اسمبلی ‘ سی پی آئی ایم رکن اسمبلی ایم وائی تریگامی شریک تھے ۔ انہوں نے آج صبح وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے وادی میں جاری بحران کو حل کرنے سیاسی پیشرفت پر زور دیا ۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کی بھی خواہش کی کہ ماضی کے غلطیوں کو نہ دہرایا جائے ۔ سرکاری بیان جاری ہونے کے فوری بعد عمر عبداللہ نے ٹوئیٹ کیا کہ وہ وزیراعظم مودی جی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور جموں و کشمیر مسئلہ کے دیرپا حل تلاش کرنے میں مل کر آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں ۔ 46سالہ کارگزار صدر نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے کی اپیل کی تاکہ نہ صرف ریاست بلکہ ملک بھر میں مستقل امن کی برقراری یقینی ہوسکے ۔ وزیراعظم نے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دستور کے ڈھانچہ میں رہتے ہوئے انہوں نے سیاسی جماعتوں سے بھی مل کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی خواہش کی ۔ وادی کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بدامنی کے سبب جو لوگ زندگی سے محروم ہوگئے بہ ہمارا ہی حصہ تھے ۔ ہمارے ملک کا حصہ تھے خواہ وہ مہلوک نوجوان ہوں ‘ سیکورٹی عملہ یا پھر پولیس ہو ۔ اس سے ہمیں بیحد دکھ پہنچا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور قوم ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو عوام تک پہنچ کر یہ پیغام دینا چاہیئے ۔ انہوں نے ریاست اور یہاں کے عوام کی ترقی کا عہد کیا اور ریاست میں عام حالات کی بحالی کی اپیل کی ۔ وادی کشمیر میں 8جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی سیکورٹی فورسیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد تشدد شروع ہوا جس میں اب تک 60سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ عمر عبداللہ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم نے وفد کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ صرف ترقی ہی بحران کا جواب نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر ہم سے کہا کہ صرف ترقی ہی مسئلہ کو حل نہیں کرسکتی ۔ تاہم انہوں نے اس بیان کی بنیاد پر کسی نتیجہ پر پہنچنے سے انکار کیا ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم دہلی آنے کے بعد مختلف قائدین سے ملاقاتوں میں یہی بات کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مسئلہ کو بالخصوص موجودہ بحران کے حالات میں صحیح تناظر میں دیکھا جائے جس کے بعد ہی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہماری تجاویز کی بغور سماعت کی اور یادداشت قبول کی ۔ انہوں نے ایک اور ٹوئیٹ میں وزیراعظم نریندر مودی جی سے وفد کیلئے وقت دینے پر شکریہ ادا کیا ۔ یادداشت میں پیلیٹ گنس کے استعمال پر امتناع کا فوری اعلان کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ہراسانی ‘ دھاوے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی روکنے پر زور دیا کیونکہ اس سے پہلے سے ابتر صورتحال مزید بگڑ جائے گی ۔ اس کے علاوہ یہ جمہوری اصولوں و اقدار کے خلاف بھی ہے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کے کل دیئے گئے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سنگباری کرنے والے کوئی ستیہ گرہی نہیں بلہ جارحیت پسند لوگ تھے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ وزیراعظم نے ایساکچھ نہیں کہا ۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہیکہ ہم کو جموں و کشمیر پر سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ‘ اس کیلئے ہمیں بعد میں کافی وقت رہے گا ۔ وفد نے سیاسی پہل کرتے ہوئے اس سے پہلے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی ۔ کل نائب صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات کر کے کشمیر کی صورتحال سے واقف کرایا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT