Tuesday , December 11 2018

جمہوریت میں رواداری کیلئے سب کی رائے سننا ضروری

ایک جرنلسٹ اور میڈیا ہاؤس کے خلاف پٹنہ ہائیکورٹ کا فیصلہ حق بجانب : سپریم کورٹ
نئی دہلی۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ذرائع ابلاغ کی اظہارخیال کی آزادی کو بھرپور پھلنے پھولنے دینا ضروری ہے اور صحافت کی ’’بعض غلط رپورٹنگ‘‘ کیلئے ہتک عزت کے عنوان سے سرزنش نہیں کی جاسکتی، سپریم کورٹ نے یہ بات کہی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ کی طرف سے یہ ریمارک پٹنہ ہائیکورٹ کے خلاف ایک اپیل کو سماعت کیلئے قبول کرنے سے انکار کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ہائیکورٹ نے اس جرنلسٹ اور ایک میڈیا ہاؤس کے خلاف ہتک عزت مقدمہ کو کالعدم کردیا ہے۔ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ بھی اس بنچ میں شامل ہیں۔ بنچ نے کہا کہ جمہوریت میں آپ (درخواست گذار) کیلئے ضروری ہیکہ رواداری کا معاملہ اختیار کرنا سیکھیں۔ فاضل عدالت نے کہا کہ کسی مبینہ اسکام کی رپورٹنگ میں کچھ غلطی یا جوش و خروش کا مظاہرہ ہوسکتا ہے لیکن ہمیں اظہارخیال کی آزادی جو صحافت کو حاصل ہونا چاہئے، اس کا بھرپور خیال رکھنا ضروری ہے۔ وقائع نگاری میں بعض لغزشیں ہوسکتی ہیں لیکن اس کیلئے ان لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے معاملہ درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے تعزیری قانون برائے ہتک عزت کے جواز کو برقرار رکھا تھا، بنچ نے کہا کہ یہ گنجائش دستوری ہوسکتی ہے لیکن کسی اسکام کے بارے میں مبینہ غیردرست نیوز ایٹم ہتک عزت کے جرم کے مترادف نہیں ہوتا ہے۔ ایک خاتون نے ہائیکورٹ حکمنامہ کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس نے ان کی نجی ہتک عزت شکایت کالعدم کردی جس کے ذریعہ ایک جرنلسٹ کو مبینہ غیردرست نیوز نشر کرنے کا موردالزام ٹھہرایا گیا تھا اور خاتون نے دعویٰ کیا تھاکہ اس سے ان کی اور ان کے ارکان خاندان کی بدنامی ہوئی ہے۔ نیوز چینل اور جرنلسٹ نے اس خاتون اور اس کی فیملی کے خلاف اہانت آمیز بیانات دیئے جس کا عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ نے اس کی شکایت کالعدم کردی اور فاضل عدالت نے اس حکمنامہ کو حق بجانب قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT