Thursday , November 15 2018
Home / ہندوستان / جمہوریت کی دہائی دینے والوں سے جمہوری نظام کمزور

جمہوریت کی دہائی دینے والوں سے جمہوری نظام کمزور

 

مرکز پر عدلیہ میں دخل اندازی کاالزام، سپریم کورٹ کے چار ججوں کی لب کشائی جرأتمندانہ اقدام، سامنا کااداریہ

ممبئی ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کی طرف سے مقدمات کی منتخب تخصیص کا مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد شیوسینا نے مرکز پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی دہائی دینے والے ہی اس کو کمزور بنارہے ہیں۔ سابق وزیراعظم اندرا گاندھی پر عدلیہ کے معاملات میں دخل اندازی کا الزام عائد کرتے ہوئے اب اقتدار میں ہیں، لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ ان (اندرا گاندھی) کی حکمرانی ان سے کہیں زیادہ انسانی اور جمہوری تھی۔ شیوسینا نے کہا کہ ملک کا دم گھٹ چکا تھا لیکن ججوں کی لب کشائی کے بعد گھٹن دور ہوئی ہے اور سانس لینے میں آسانی محسوس ہورہی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت میں گذشتہ جمعہ کو بھونچال آ گیا تھا جب سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے جے چلمیشور، رنجن گوگوئی، ایم بی لوکور اور کرین جوزوف نے حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے پریس کانفرنس طلب کیا تھا، جس میں انہوں نے ججوں میں مقدمات کی منتخب تقسیم و تخصیص کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ شیوسینا نے کہا کہ چار ججوں نے جمہوریت کو مستحکم بنانے کیلئے جرأتمندانہ قدم اٹھایا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کی حلیف شیوسینا نے دریافت کیا کہ ’’کیا یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دپک مصرا کے دباؤ میں آنے اور ان چار غیرجانبدار ججوں کو بعض مقدمات کی سماعت سے دور رکھنے کے بارے میں ہے؟ شیوسینا نے اپنے ترجمان مراٹھی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں لکھا کہ آج وہ لوگ اقتدار پر فائز ہیں جو اندرا گاندھی پر عدالتی معاملات میں دخل اندازی کا الزام عائد کیا کرتے تھے اور مختلف دستوری عہدوں کے بارے میں موجودہ حالات دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ اندرا گاندھی کی حکومت ان (موجودہ حکمرانوں) سے کہیں زیادہ انسانی و جمہوری تھی۔ اداریہ نے مزید لکھا کہ ’’آپ (مرکز) جمہوریت کی حمایت کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت میں آپ اس کو کمزور بنارہے ہیں اور فی الحال ملک میں ایسا ہورہا ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے جمعہ کو منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد کہا تھا کہ ’’اس سے گریز کیا جاسکتا تھا‘‘ لیکن اب تمام ججوں کو چاہئے کہ وہ مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنانے کیلئے تدبر کے ساتھ کام کریں۔ شیوسینا نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو اس تنازعہ کی پس پردہ وجوہات پر روشنی ڈالنا چاہئے اور ملک کو ججوں کی تائید میں ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔ اس زعفرانی جماعت نے کہا کہ ’’ان چار ججوں نے سچائی کو مرنے نہیں دیا۔ انہوں نے جمہوری آزادی کیلئے قانونی چوکٹھے میں رہتے ہوئے اپنی آواز اٹھائی۔ اس ملک کا دم گھٹ رہا تھا لیکن چار ججوں کے بولنے کے بعد گھٹن دور ہوتی ہے اور سانس لینے میں راحت ہوئی ہے‘‘۔ سامنا نے لکھاکہ ججوں کے اقدام نے اس مسئلہ پر ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے روبرو مقدمات کیا تھے اور کیوں ان ججوں کو ان مقدمات کی سماعت سے دور رکھا گیا تھا۔ اداریہ میں الزام لگایا گیا کہ ’’ججوں کو دور رکھنے کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں۔ بالآخر یہ ہمارے عدالتی نظام کی قدر میں کمی کے مترادف ہے‘‘۔ شیوسینا نے ججوںکی طرف سے برسرعام اظہارخیال کے بعد عدالتی غیرجانبداری پر سوالات بھی اٹھایا۔ شیوسینا نے خبردار کیا کہ ’’ان ججوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عدلیہ بھی اب توڑجوڑ اور ہیرپھیر کی شکار ہوگئی ہے۔ ایسی باتیں سارے عدالتی نظام کو زہرآلود کررہی ہیں اور اس سے ملک کی نیراج و افراتفری کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT