Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / جمہوریت کی عالمی فہرست میں ہندوستان کو 42 واں مقام

جمہوریت کی عالمی فہرست میں ہندوستان کو 42 واں مقام

سخت ہندو طاقتوں کو استحکام، مسلمانوں پر تشدد و غنڈہ گردی میں اضافہ
نئی دہلی ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں ابھرنے والے قدامت پسند مذہبی نظریات کے درمیان اقلیتوں (بالخصوص مسلمانوں) کے خلاف تشدد اور جبر و استبداد کے سبب یہ ملک (ہندوستان) جمہوریت کے سالانہ عالمی اشاریہ نیچے اترتے ہوئے 42 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان اگرچہ انتخابی عمل اور تنوع پر 9.17 پوائنٹس حاصل کیا۔ ناروے بدستور سرفہرست رہا۔ آئیسلینڈ کو دوسرا اور سویڈن کو تیسرا مقام حاصل ہوا۔ اکانومسٹ انٹیجنس یونٹ (ای آئی یو) کی طرف سے مرتبہ اس فہرست میں ہندوستان گذشتہ سال 32 ویں مقام پر تھا۔ اس سال 10 پائیدان گھٹتے ہوئے 42 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے اور ہنوز مجہول و پُرنقص جمہوریتوں کے زمرہ میں برقرار ہے۔ جمہوریت کے اس سالانہ عالمی اشاریہ میں 165 آزاد ممالک اور دو علاقوں کو پانچ زمروں کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔ ان زمروں میں انتخابی عمل و تنوع، شہری آزادیوں، حکومت کی کارکردگی، سیاسی حصہ داری اور سیاسی کلچر شامل ہے۔ اس فہرست کو مکمل جمہوریت، مجہول و پُرنقص جمہوریت، خود مسلط حکومت اور مطلق العنان حکومت جیسے چار وسیع تر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جمہوریت کے سالانہ عالمی اشاریہ کی فہرست میں امریکہ (21 واں مقام)، جاپان، اٹلی، فرانس، اسرائیل، سنگاپور اور ہانگ کانگ کو پُرنقص جمہوریتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ صرف 19 سرکردہ ممالک ہی اس فہرست میں ’’مکمل جمہوریت‘‘ کے زمرہ میں شامل کئے گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کو چوتھا اور ڈنمارک کو پانچواں مقام حاصل ہے۔ پاکستان (110)، بنگلہ دیش (92)، نیپال (94) اور بھوٹان (99) آمرانہ اقتدار کے زمرہ میں شامل کئے گئے ہیں۔ چین (39 واں مقام)، مائنمار (120)، روس (135) اور ویتنام (140) کو مطلق العنان حکومتوں والے ملکوں کے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ شمالی کوریا اس فہرست میں کمترین 167 ویں مقام پر رہا جبکہ شام 166 ویں مقام کے ساتھ اس سے قدر بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اکانومٹ انٹلیجنس یونٹ (ای آئی یو) نے کہا کہ ’’قدامت پسند مذہبی نظریات کا عروج بھی ہندوستان کو متاثر کیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر سیکولر کہلائے جانے والے اس ملک میں دائیں بازو کے ہندو طاقتوں کے استحکام کے سبب اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد اور جبر و استبداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال کی رپورٹ میں دنیا بھر میں صحافتی آزادی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کو ’’جزوی طور پر آزاد‘‘ قرار دیا گیا۔

دہلی میں آج اپوزیشن پارٹی اجلاس میں
ترنمول کانگریس کی عدم شرکت کا اعلان
کولکتہ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال و صدر ترنمول کانگریس ممتا بنرجی نے آج اعلان کیا کہ وہ کل کے اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی جو سونیا گاندھی نے نئی دہلی میں طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بار دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس اجلاس میں شرکت سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس پارلیمانی پارٹی قائدین اجلاس میں حسب معمول شرکت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT