Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / جمہوریت کے تحفظ کیلئے عوام خوف کے ماحول سے باہر آئیں

جمہوریت کے تحفظ کیلئے عوام خوف کے ماحول سے باہر آئیں

من مانی اور شیطانی اقتدار کا خاتمہ ضروری‘ محبوب نگر میں انقلابی مصنفین کی ریاستی کانفرنس سے مختلف دانشوروں اور جہدکاروں کا خطاب

n مخالفین کو شکست دینے آستین کے سانپوں کو پہچاننا ضروری
n بی جے پی اور اس کے ہمنوا سیکولر ووٹوں کی تقسیم میں کامیاب
n پولیٹکل فرنٹ کا قیام ناگزیر : ظہیرالدین علی خان

محبوب نگر ۔ 15 جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ملک میں ہمارے انتخابات کا طریقہ کار ایسا ہے کہ جس نے 4قاتلوں کو وزارت عظمی کے عہدہ پر فائز کروایا ‘ چنانچہ 2019ء کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور نئے انقلابی سیاسی نظام کا رُخ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مشورہ انقلابی مصنفین تنظیم کے مشہور و سرگرم قائد ورا ورا راؤ نے دیا ۔ وہ مستقر محبوب نگر کراؤن گارڈن میں انقلابی مصنفین کی 26ویں ریاستی کانفرنس کے اختتامی جلسہ سے اتوار کی شب بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یکتا کے نام پر آئندہ عام انتخابات میں فاشزم کو مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے رنجیدگی کے ساتھ پُرزور انداز میں انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فاشزم کے ساتھ ساتھ من مانی اور شیطانی اقتدار کا خاتمہ بھی صروری ہے ۔ مہاراشٹرا میں نکسلس کے نام پر 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ان تمام کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نلا ملا جنگلات فی الوقت خالی اور خاموش ہیں تاہم انہوں نے پیش قیاسی کی کہ نلا ملا جنگلات پھر سے تحریک کا مرکز بن جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ آندھراپردیش کو دینے سے آدی واسی بے گھر ہورہے تھے ۔ ایسے میں تلنگانہ کے سی آر کو دیا گیا ۔ انہوں نے 32 سال قبل منعقدہ گدوال کے جلسہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاڈیکلس احتجاج زوروں پر تھا ۔ نلا ملا جنگلات میں انقلابی تنظیمیں سرگرم تھیں ۔ پھر سے یہاں سرگرمیوں کا آغاز ہورہا ہے ۔ جلسہ کی صدارت ریاستی انقلابی مصنفین تنظیم کے سکریٹری نے کی ۔ فنکشن ہال کھچا کھچ بھر چکا تھا ۔ جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر ’’ سیاست ‘‘ نے ملک کے سیاسی حالات کا تفصیلی تجزیہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمان قومی اور عالمی سطح پر نشانے پر ہیں۔ منیجنگ ایڈیٹر ’’سیاست‘‘ نے کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ آج سیکولر جماعتوں کے اتحاد کی شدید ضرورت ہے اور ایک پولیٹیکل فرنٹ ہمیں بنانا ہوگا ۔ اس ضمن میں انہوں نے نیپال کی مثال پیش کی ۔ انہوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اگر امبیڈکر کا ساتھ دیا ہوتا تو آج تحفظات ہمارے حصہ میں ہوتے لیکن ہم نے گاندھی کا ساتھ دیا ۔ امبیڈکر مسلم اور دلتوں کے لئے ایک خصوصی سسٹم چاہتے تھے ۔ کانگریس نے امبیڈکر کو ہرایا لیکن مسلم لیگ نے اپنے ایم پی کو مستعفی کروایا اور ضمنی انتخابات میں امبیڈکر کو کامیابی کا موقع فراہم کیا ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی نریندر مودی کے پس پشت مسلم لیڈرز ہیں ۔آج ہم ہی خود غرضی کی سیاست کا شکار ہیں ‘ ہمیں سب سے پہلے مخالفین کو شکست دینے کیلئے آستین کے سانپوں کو پہچاننا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے ۔ بی جے پی اور اس کے ہمنوا سیکولر ووٹس تقسیم کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ ظہیر الدین علی خان نے یو پی ‘ گجرات اور آسام میں نشستوں کے اعداد و شمار پیش کئے اور بتایا کہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں نے مسلمانوں کے ووٹس تقسیم کروائے ‘ یہی لوگ مسلمانوں کے اصل دشمن ہیں۔ انہوں نے گجرات کے گودھرا جیسے حساس مقام پر 252 ووٹوں سے بی جے پی کی جیت کا ذکر کیا ۔ اس حلقہ میں ہزاروں مسلم ووٹس تقسیم ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ مکیش امبانی ملک بھر میں مزید 2000چینل خریدنے والا ہے ۔ روزنامہ ’سیاست ‘ نے انگریزی میں جو ایڈیشن شائع کیا ‘ روزآنہ دو لاکھ قارئین مستفید ہورہے ہیں ۔ انہوں نے آخر میں انتباہ دیا کہ 2019ء میں اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو نہ صرف مسلمان بلکہ 92فیصد ہندوستانی عوام کو خطرہ ہے ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے کہا کہ انسانی رشتے بکھر گئے ہیں ‘ حکومت ماؤسٹوں کو بات چیت کیلئے بلاتی ہے اور جب وہ عام زندگی گذارتے ہیں تو ان کے حقوق کو چھین لیتی ہے ۔ آج سچائی پیش کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے ۔ ریاستی حکومت عوامی تنظیموں کے اجلاس کی اجازت نہیں دیتی ۔ بیروزگاری کے خاتمہ پر کوئی توجہ نہیں دیتی سارے ملک میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کررہی ہے ۔ مرکزی حکومت کے تابع تمام چیف منسٹرس ہمیشہ اندیشوں کا شکار خوف کے سائے میں حکومت چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ خوف کے ماحول سے باہر آئیں اور جدوجہد کریں ۔ جمہوریت کا تحفظ کریں ۔ ماؤسٹ قائد اور فنکار ویرا ساتھیدار ( ناگپور) نے کہا کہ ہم انصاف کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کو سلام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ برہمن فاشسٹ طاقتیں ایک نئے کلچر کو ہم پر تھوپنے کی کوشش میں ہیں ۔ اس کو حکومت کی سرپرستی اور معاشی مدد حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حق و انصاف اور سیکولرازم کیلئے ہم نے برسہا برس جیلوں میں گذارے اور مسکراکر پھانسی پر لٹک گئے لیکن اپنی لڑائی نہیں چھوڑی ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ حالات ناسازگار ہیں ‘ آجہم سے زیادہ آپ کو لڑائی لڑنی ہے ۔ ادیبوں ‘ شاعروں ‘ فلمسازوں اور فنکاروں پر بھی بھاری ذمہ داری ہے ۔ کلیان راؤ نے کہا کہ دیش میں دیش بھگتی ‘ دیش دروہی اور ہندو مذہب کا عام اور سوشل میڈیا پر تسلط ہے ۔ دلتوں ‘ اقلتیوں ‘ خواتین اور غرباء پر ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے ۔ ناحق ان کا خون بہایا جارہا ہے ۔ دونوں تلگو ریاستوں کا بھی یہی حال ہے ۔ انقلابی طرز پر جدوجہد کرتے ہوئے تمام اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے گاؤ رکھشا کے نام پر مہم کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بیف ایکسپورٹ کا کاروبار غیر مسلمکررہے ہیں ۔ بے تحاشہ دولت کمارہے ہیں اور بی جے پی کو بھی فنڈ دے رہے ہیں اور بی جے پی گاؤ رکھشا کے نام پر نفرت پھیلا کر معصوم عوام کا خون کروا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندؤں کی مقدس کتاب میں مہمانوں کی خاطر بیف سے کرنے کی بات تک کہی گئی ہے اور بیف کا چلن ہزاروں سال سے چلا آرہا ہے ۔ بی جے پی نفرت کی سیاست کیلئے اس کا استحصال کررہی ہے ۔ ریالی کیلئے پولیس نے اجازت نہیں دی ۔ یہ دو روزہ کانفرنس توقع سے زیادہ کامیاب رہی اور کھلے میدان میں انقلابی مصنفین کی کتابوں کی نمائش و فروخت کا انتظام کیا گیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT