Sunday , January 21 2018
Home / Mera Column / جمہوریت … ایوان سے سڑک تک

جمہوریت … ایوان سے سڑک تک

میرا کالم سید امتیازالدین

میرا کالم سید امتیازالدین

ہم نے اب تک کی جو زندگی گزاری ہے اُس میں تہلکہ خیز واقعات کم دیکھے ہیں۔ فسادات ، ہڑتالیں وغیرہ تو بہت ہوئیں ہم تھوڑے سے پریشان بھی ہوئے لیکن یہ پریشانی عارضی نوعیت کی تھی۔ البتہ پچھلے دو تین سال سے انّا ہزارے جی اور کجریوال صاحب نے جس انداز سے ساری قوم کو جھنجھوڑا ہے اُس سے سبھی حیرت زدہ ہیں۔ دہلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو غیرمعمولی کامیابی ملی اور اُنھوں نے بادلِ ناخواستہ حکومت بنالی ۔ شاید وہ حکومت نہ بناتے تو بند مُٹھی کا بھرم قائم رہتا اور وہ پارلیمنٹ کے انتخاب تک سنہرے خواب دیکھتے اور دکھاتے رہتے ۔ لیکن اب جب کہ وہ حکومت بناچکے ہیں تو انھیں کچھ نہ کچھ کر دکھانا ہے ۔

یہ بات تو طئے ہے کہ رشوت نہایت بُری چیز ہے اور اُس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ رشوت ستانی کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی دنیا کی تاریخ ۔ کوئی آدمی ( چاہے وہ عام آدمی ہو یا عام آدمی کا خاص آدمی ) اچانک اُٹھ کھڑا ہو اور کہنے لگے کہ میں رشوت کی غلاظت کو جھاڑو کی مدد سے ایک دن میں صاف کرووں گا تو یہ بات سمجھ سے بالاتر لگتی ہے ۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں سب سے پہلے رشوت کس نے دی اور کس نے لی ،لیکن اپنی آنکھوں سے کئی رشوت خور اصحاب کو دیکھ چکے ہیں۔ عام طورپر رشوت خور لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کام کرتے ہیں۔ وہ محکمے کے اصول و ضوابط سے نسبتاً زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ اگر واقف نہ ہوں تو ناممکن کو ممکن کیسے بنائیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ایماندار بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نے ایک اعلیٰ افسر کو دیکھا جنھوں نے خود کو نہایت اصول پسند اور ایماندار مشہور کر رکھا تھا ۔ کسی سے ایک پیسہ نہیں لیتے تھے ۔ اُن کے تیس چالیس ماتحتین تھے ۔ اُنھوں نے اپنے حُسنِ انتظام سے رشوت خوری کو فنونِ لطیفہ کا درجہ دے رکھا تھا ۔ اُنھیں پتہ تھا کہ کونسا ماتحت ایماندار ہے اور کون نہیں ہے ۔ ایماندار ماتحتوں کو وہ مطلق نہیں چھیڑتے تھے ۔ لیکن رشوت خور افسروں کو مختلف کام دے رکھے تھے ۔

ایک صاحب اُن کو چاول اور گیہوں فراہم کرتے تھے ۔ کسی کے ذمے تیل اور دیگر سامان تھا ۔ ایک صاحب ہفتے بھر کا گوشت اور سبزی پہنچاتے تھے ۔ لائیٹ اورپانی کا بل ایک اور ماتحت داخل کرتے تھے ۔ ایک صاحب کے لئے حکم تھا کہ وہ شاموں میں دیرتک ٹھہریں کیونکہ افسر موصوف کے دولت خانے پر اکثر مہمان آجاتے تھے ۔ ہوٹل سے کھانے کے پارسل ، آئس کریم اور مٹھائی وغیرہ کی سربراہی اس ماتحت کے ذِمے تھی ۔ اور تو اور جب افسر موصوف کی بیٹی کی شادی ہوئی تو شادی خانے کے کرائے سے لے کر ڈنر کے جملہ انتظامات بھی انھی ماتحتین نے کیئے تھے ۔ اس خدمت گزاری کے صلے میں اپنے ماتحتوں کے کام وہ بڑی خوبی سے نکالتے تھے ۔ افسر اعلیٰ ہمیشہ نیک نام رہے لیکن اُن کے ماتحت بدنام ہوے ۔ ان ماتحتوں کے ہونٹوں پر ہمیشہ یہی مصرع رہا ؎
رشوتوں کے لینے والے رشوتیں دیتے بھی ہیں
دہلی کی عام آدمی کی حکومت نے حسبِ وعدہ بجلی سستی کردی ، پانی کی مشکلات آسان کردیں ۔ دلی کی ریاستی حکومت کیلئے ایک خصوصی سہولت حاصل ہے جو کسی اور ریاستی حکومت کو حاصل نہیں ۔ دہلی مرکز کا بھی صدر مقام ہے اور ریاست کا بھی جو کام آپ سے نہ ہوسکے فوراً مرکز کو ذمہ دار ٹھہرائیے اور دھرنا دے دیجئے ۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کی حکومت کو دفاتر کی بھی ضرورت نہیں رہی ۔ سڑکوں پر بیٹھ گئے اوروہیں فائلوں پر دستخط کردیئے ۔ اس طرح دفاتر کی عمارتیں خودبخود خالی ہوجائیں گی جہاں غریب اور بے گھر لوگ اپنا آشیانہ بسالیں گے ۔
عام آدمی پارٹی کی حکومت سازی سے دوسری جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہیں اور اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ بھی ہیں۔ اب تک سیکولرازم کے دعوؤں ، ترقیاتی کاموں کے تذکروں اور مذہبی جذبات بھڑکانے سے بہت کچھ کام نکل جاتا تھا ۔ لیکن اب بالکل نئے شعبدوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ حال ہی میں بابا رام دیو نے بی جے پی نے مشورہ دیا کہ انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکسس برخاست کردیئے جائیں ۔ جہاں تک ہماری ناقص معلومات کا تعلق ہے کسی بھی ملک کا بجٹ بڑی حد تک ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی سے تیار کیا جاتا ہے ۔ جب ٹیکس ہی نہ ہوگا تو پتہ نہیں بجٹ کیسے بنے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کو رِجھانے کے لئے بعض جماعتیں اس قسم کے وعدے بھی کرنے لگیں جیسے :

.1 اگر ہم برسراقتدار آئے تو ٹرینوں اور بسوں میں بلا ٹکٹ مسافرین کے لئے بیس فیصد نشستیں مختص کی جائیں گی ۔ اس سلسلے میں سفر کے اعزازی دعوت نامے ریلوے اسٹیشن اور بس کے ٹکٹ کاؤنٹرس پر دستیاب رہیں گے ۔

.2 گرمیوں میں تمام اہم شاہراہوں پر ٹھنڈے پانی کے اور سردیوں میں گرم پانی کے نل نصب کئے جائیں گے ۔
.3 محض ایک علامتی ٹوپی سے ستر پوشی کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے ہماری پارٹی عوام کے لئے ایسے کرتے اور پاجامے سربراہ کرے گی جن پر ہماری پارٹی کا نشان دیدہ زیب طریقہ پر نقش ہوگا۔

.4 سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر سرشام آرام دہ بستر بچھا دیئے جائیں گے تاکہ غربا اور مساکین آرام سے سو سکیں۔ برسات میںواٹر پروف شامیانے لگائے جائیں گے ۔
.5 ملک کی خوشحالی کیلئے تمام صنعتی کارخانوں میں عوام کو حصہ دار بنایا جائے گا جہاں نقصان کی صورت میں بھی نفع برابر برابر تقسیم کیا جائے گا ۔
.6 تمام ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ امتحانات میں ہر پرچے میں مستحق طلبا کو نقل کرنے کی اجازت ہوگی ۔
.7 ہماری پارٹی کے وزراء گھر سے دفتر تک بس میں سفر کریں گے اور دفتر سے دو اسٹیج پہلے بس سے اُتر جائیں گے تاکہ پیدل چلنے سے اُن کی صحت ٹھیک رہے اور عوامی مسائل سے واقفیت بھی حاصل ہو ۔

ہم نے ایک پرانی کہاوت سنی تھی کہ اگر قوال خود وجد کرنے لگے تو سننے والے کیا کریں۔ اگر کسی ریاست کا حاکم اعلیٰ دھرنے پر بیٹھ جائے تو حکومت کون چلائے ۔ یوم جمہوریہ کے حفاظتی انتظامات کو درہم برہم کرنا اور یہ کہنا کہ موجودہ حالات میں یوم جمہوریہ منانے کی کیا ضرورت ہے عجیب سا لگتا ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی خود یہ چاہتی ہے کہ اُن کی حکومت ختم ہوجائے تاکہ عوام میں یہ تاثر پھیلے کہ ایماندار لوگوں کو حکومت چلانے کا موقع نہیں دیا گیا ۔اس طرح ہمدردی کی ایک نئی لہر اُٹھے گی جو آنے والے انتخابات میں کام آئے گی۔ جو چند اصحاب خیر عمداً حمایت میں آگے آئے ہیں بدستور حمایت پر قایم ہیں۔ ایسے میں ہم کو فلم مغل اعظم کا ایک مکالمہ یاد آتا ہے کہ

’’سلیم تجھے مرنے نہیں دے گا اور ہم تجھے جینے نہیں دیں گے ‘‘
بہرحال دنیا کا ہر کام سلیقے اور ہوشیاری کا محتاج ہے ۔محمد تغلق نے جب چمڑے کے سکے چلائے او ردارالحکومت تبدیل کیا تو ہوسکتا ہے کہ اُس کی نیت بخیر ہوگی لیکن بے سوچے سمجھے کیے ہوئے فیصلوں نے تاریخ میں اُس کے نام کو ایک مضحکہ خیز مثال بنادیا۔ جلدبازی کبھی بھی فائدہ مند نہیں ہوتی ۔ رکنیت سازی کی مہم ایسی طوفانی رفتار سے شروع کی گئی ہیکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ آن لائین ممبر بنتے جارہے ہیں ۔ ناانصافی ، ظلم اور رشوت ستانی کے خلاف آواز اٹھانا اچھی بات ہے لیکن اُس کو راتوں رات ختم کردینا ممکن نہیں ۔ جب آدمی کو اختلاف اور احتجاج کی عادت پڑجاتی ہے تو وہ ایک حد پر پورے نظام شمسی کے خلاف ہوجاتا ہے ۔ ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے اور مخلص سیاستداں نے آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے سوتنترا پارٹی قائم کی تھی لیکن بعد میں وہ خود اپنی قائم کردہ پارٹی سے ناراض ہوگئے تھے۔

بہرحال اس دھرنے میں جزوی کامیابی تو ملی ہے لیکن جو جماعتیں اب تک خوف زدہ تھیں اُن کو تماشا دیکھنے کا لطف بھی آرہا ہے ۔ملک کی ان تبدیلیوں سے اور کچھ ہو نہ ہو اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ سب کو ایمانداری کا خیال آرہا ہے ۔ اُمید ہے کہ گُھٹالوں میں کچھ تو کمی آئے گی ۔ حالات کی تبدیلی سے کڑاکے کی سردی میں بھی گرمی دوڑ گئی ۔ لوگ رات بھر دھرنے پر بیٹھے رہے ۔ خدا کرے موسموں کی تبدیلی ہماری جمہوریت کے لئے فائدہ مند ہو۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر بیرونی مہمانوں کی شرکت سے جشن جمہوریہ کی رونق تو بڑھے گی لیکن اندرونی مہمانوں کو بہ ہزار دِقّت اپنے اپنے گھروں کو بھیجنے میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اُس سے یوم جمہوریہ منانے میں جتنی مدد ملی ہے وہ بیان سے باہر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT