Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / جمہوری آواز کو کچلنے حکومت نے دھرنا چوک کو خون سے رنگ دیا

جمہوری آواز کو کچلنے حکومت نے دھرنا چوک کو خون سے رنگ دیا

سماجی کارکنوں اور جے اے سی قائدین پر لاٹھی چارج کی مذمت ، محمد علی شبیر کا سخت ردعمل
حیدرآباد۔ 15 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے اندرا پارک پر دھرنا چوک کی برقراری کے لیے احتجاج کرنے والے سماجی کارکنوں و جے اے سی قائدین پر پولیس کے لاٹھی چارج کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے جمہوری آواز کو کچلنے کے لیے دھرنا چوک کو خون سے رنگ دیا ہے۔ پولیس کی کارروائی اور احتجاجیوں کو منظم انداز میں گھیر کر نشانہ بنانے سے کئی کارکن بری طرح زخمی ہوگئے اور انہیں ہاسپٹل سے رجوع کرنا پڑا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دلانے کے لیے دھرنا چوک موزوں مقام تھا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے متحدہ آندھراپردیش میں صدر ٹی آر ایس کی حیثیت سے اسی مقام پر کئی ایک احتجاجی پروگراموں میں شرکت کی تھی لیکن اقتدار ملتے ہی انہیں عوام کی آواز پسند نہیں آرہی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ حکومت کے خلاف کوئی بھی آواز اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دھرنا چوک کو شہر کے مضافاتی علاقے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جمہوری حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو نشانہ بنانا کے سی آر حکومت اور ٹی آر ایس کے لیے مہنگا ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ مختلف تنظیموں نے پہلے ہی احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلہ میں پولیس سے اجازت طلب کی گئی تھی۔ کے سی آر ڈکٹیٹرشپ اور عامرانہ طرز حکمرانی کے ذریعہ عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے پولیس کو بھاری تعداد میں متعین کرتے ہوئے وہاں پہنچنے والے کارکنوں کو بری طرح مارپیٹ کرائی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں کے سی آر نے عوام کے ہر شعبے کی آواز کچلنے کی کوشش کی ہے۔ دھرنا چوک کی بحالی کے سلسلہ میں احتجاج کے دوران جو کارکن زخمی ہوئے ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور 2019ء میں عوام ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر رائو جن تنظیموں اور کارکنوں کی جدوجہد کے باعث آج چیف منسٹر کی کرسی پر فائز ہیں انہی پر پولیس کے ذریعہ حملہ کرایا گیا۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران ان تنظیموں نے قربانیاں پیش کیں لیکن جہد کاروں، طلبہ، قلم کاروں اور فنکاروں کو جدوجہد کے صلہ میں پولیس کی لاٹھیاں کھانی پڑی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈارام نے تلنگانہ تحریک کی قیادت کی تھی لیکن آج کے سی آر نے انہیں نہ صرف نظرانداز کردیا بلکہ اپوزیشن کے ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کودنڈارام جب عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں تو یہ بات چیف منسٹر کو پسند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار خیال کی آزادی ہے اور اس حق سے کوئی بھی حکومت محروم نہیں کرسکتی۔ نئی دہلی میں جنترمنتر پر احتجاج کے لیے جگہ مختص کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کے اعتراض کے نام پر دھرنا چوک کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مقامی افراد کے بھیس میں ٹی آر ایس قائدین کو میڈیا کے روبرو پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے کئی عہدیدار سادہ لباس میں دھرنا چوک کے خلاف بناوٹی احتجاج میں شریک ہوئے تاکہ میڈیا کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جاسکے۔ محمد علی شبیر نے دھرنا چوک کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کے سی آر حکومت ہٹ دھرمی کرے گی تو عوام حکومت کو بے دخل کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT