Wednesday , November 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / جمیکا کے یوسین بولٹ 100 میٹر دوڑ کے عالمی چمپئن

جمیکا کے یوسین بولٹ 100 میٹر دوڑ کے عالمی چمپئن

بیجنگ۔23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چین کے شہر بیجنگ میں جاری عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں مردوں کے سو میٹر کی دوڑ مشہور ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپیئن جمیکا کے یوسین بولٹ نے جیت لی ہے۔اتوار کو ہونے والے مقابلے میں 29 سالہ بولٹ یہ فاصلہ 9.79 سیکنڈ میں طے کر کے عالمی چیمپیئن بنے۔ان کے قریب ترین حریف امریکہ کے 33 سالہ جسٹن گیٹلن رہے جنھوں نے مقررہ فاصلہ 9.80 سیکنڈز میں طے کیا اور چاندی کا تمغہ جیتا۔سونے اور چاندی کے تمغے کے حقداروں کا فیصلہ فوٹو فنش کے ذریعے کیا گیا۔ امریکہ کے ہی ٹریون برومل اور کینیڈا کے آندرے ڈی گریس 9.911 سیکنڈز کے ساتھ کانسی کے تمغے کے حقدار قرار پائے۔ یہ ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں بولٹ کا نواں طلائی تمغہ ہے۔ ان نو تمغوں میں سے تین انھوں نے سو میٹر کی دوڑ میں حاصل کیے ہیں اور امریکہ کے کارل لوئیس اور مورس گرین کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ فائنل میں بولٹ اور ان کے حریف امریکہ کے جسٹن گیٹلن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا لیکن سیمی فائنل میں بجھی بجھی سے کارکردگی کے برعکس بولٹ اسی فارم میں نظر آئے جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں بولٹ کا مجموعی طور پر نواں طلائی تمغہ ہے ۔فتح کے بعد بولٹ نے کہا کہ ’میرے لیے یہ جیت بہت معنی رکھتی ہے۔ میں سارے سیزن تکلیف کا شکار رہا ہوں۔ مجھے کارکردگی بہتر بنانے میں وقت لگا ہے۔

 

میری کارکردگی اوپر نیچے ہوتی رہی لیکن اب وہ ٹھیک ہے۔‘ اتوار کو ہی ہونے والی سیمی فائنل دوڑ میں یوسین بولٹ اگرچہ 9.96 سیکنڈز میں اپنی ہِیٹ جیتنے میں کامیاب رہے تھے لیکن ان کی کارکردگی کو اس معیار کا قرار نہیں دیا گیا تھا جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ بولٹ کے برعکس جسٹن گیٹلن نے سیمی فائنل میں سو میٹر کا فاصلہ 9.77 سیکنڈز میں طے کر کے بولٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ بولٹ اور گیٹلن کی یہ سو میٹر کی دوڑ میں بولٹ اور گیٹلن کا یہ مقابلہ ایتھلیٹکس میں اعزازات حاصل کرنے والے ایتھلیٹس کی جانب سے ممنوعہ ادویات کے استعمال کی حالیہ خبروں کے بعد بھی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
جہاں یوسین بولٹ پر کبھی بھی اس قسم کی قوت بخش ادویہ کے استعمال کا الزام نہیں لگا وہیں جسٹن گیٹلن ایسی ادویات کے استعمال کرنے کی وجہ سے پابندی کا شکار رہ چکے ہیں۔ ریس جیتنے کے بعد اس سوال پر کہ وہ خود کو ایتھلیٹکس کی دنیا کو بچانے والا فرد قرار دیے جانے پر کیا کہتے ہیں، بولٹ نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ خطاب کیوں ملا ہے لیکن یہاں میں اپنے لیے بھی جیتنا چاہتا تھا۔ یہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔

TOPPOPULARRECENT