Wednesday , December 19 2018

جناب زاہد علی خاں، تلگودیشم پارٹی سے مستعفی

بی جے پی سے اتحاد کے بعد وابستگی کی کوئی وجہ نہیں، سیکولر کردار کے تحفظ کو اولین ترجیح

بی جے پی سے اتحاد کے بعد وابستگی کی کوئی وجہ نہیں، سیکولر کردار کے تحفظ کو اولین ترجیح

حیدرآباد ۔ /6 اپریل ( سیاست نیوز) تلگودیشم اور بی جے پی کے مابین اتحاد درحقیقت فرقہ پرست عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے اور جناب زاہد علی خاں نے بطور احتجاج آج تلگودیشم پولیٹ بیورو رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو موسومہ مکتوب استعفیٰ پیش کیا کہ ایک سیکولر جماعت ہونے کی بناء انہوں نے پارٹی سے تعلق قائم کیا اور جب تک اس سے وابستہ رہے ان کی کوشش یہی تھی کہ کبھی بھی فرقہ پرست جماعتوں کی تائید نہ کی جائے لیکن چندرا بابو نائیڈو نے پارٹی کی بنیادی پالیسی کو تبدیل کرلی اور پھر ایک بار انہوں نے فرقہ پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے ۔ یہ دراصل بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے ۔ ان کی اس حرکت سے سیکولر رائے دہندوں میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ جس کا وہ (زاہد علی خاں) خود بھی بحیثیت سیکولر شخص اندازہ کرسکتے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو محسوس اوراس سے پہلے کئے گئے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے یاد دلایا کہ تلگودیشم سے ان کی وابستگی اس کی سیکولر کردار کی بنیاد پر تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ جب بھی پارٹی اس سے روگردانی کرے گی وہ قطع تعلق کرلیں گے ۔ اب ان کا تلگودیشم پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہے گا ۔

جناب زاہد علی خاں نے مکتوب استعفیٰ میں صدر پارٹی مسٹر چندرا بابو نائیڈو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بی جے پی سے اتحاد کرکے دراصل نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کی تائید کی ہے اور یہ وہی نریندر مودی ہیں جن کی قیادت میں 2002 ء گجرات فسادات ہوئے تھے ۔ یہاں آج تک متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا ۔ گجرات کے حالات اور مسلمانوں کی تکالیف کے علاوہ نریندر مودی کے کردار کا آپ (چندرا بابو نائیڈو) کو بخوبی اندازہ ہے اس کے باوجود فرقہ پرست جماعت کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے آپ نے نہ صرف پارٹی سے وابستہ سیکولر کارکنوں بلکہ کروڑہا سیکولر بہی خواہوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ ملک کے سیکولر کردار کا تحفظ ان کی اولین ترجیح رہے گی اور وہ اس کیلئے انتھک کوشش کرتے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT