Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جناب زاہد علی خاں کا فیصلہ ملی حمیت کا ثبوت

جناب زاہد علی خاں کا فیصلہ ملی حمیت کا ثبوت

تلگو دیشم کے دیگر اقلیتی قائدین کو بھی تقلید کا مشورہ : جناب حامد محمد خاں

تلگو دیشم کے دیگر اقلیتی قائدین کو بھی تقلید کا مشورہ : جناب حامد محمد خاں

حیدرآباد۔/8اپریل، ( سیاست نیوز) صدر موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس( ایم پی جے) جناب حامد محمد خاں نے تلگودیشم پارٹی سے جناب زاہد علی خاں کے استعفی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سے اتحاد کے خلاف جناب زاہد علی خاں کا یہ فیصلہ ملی حمیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم اور بی جے پی کا یہ ناپاک اتحاد ملک کے اتحاد و سیکولرازم کیلئے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تلگودیشم پارٹی میں موجود دیگر اقلیتی قائدین بھی جناب زاہد علی خاں کی تقلید کرتے ہوئے اپنی ملی حمیت کا مظاہرہ کریں گے۔ جناب حامد محمد خاں نے کہا کہ پولیٹ بیورو رکن کی حیثیت سے جناب زاہد علی خاں نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ اگر تلگودیشم انتخابات میں بی جے پی سے اتحاد کرے گی تو وہ پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے۔ انہوں نے اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے نہ صرف ملی اور سیکولر اقدار کی پاسداری کی ہے بلکہ اقلیتوں اور سیکولر عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پارٹی سے وابستہ دیگر قائدین بھی اپنے استعفے چندرا بابو نائیڈو کو پیش کردیتے۔ انہوں نے کہا کہ جناب زاہد علی خاں نے اپنے استعفی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ اقتدار اور عہدہ ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ وہ قومی یکجہتی، سیکولرازم اور مذہبی رواداری کے تحفظ کو فوقیت دیتے ہیں کیونکہ یہی ملک کی بھلائی میں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ریاست میں پدیاترا کے آغاز سے قبل نائیڈو نے ملک پیٹ میں اقلیتوں کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ علماء، مشائخین، عمائدین اور دانشوروں کے اس اجلاس میں نائیڈو نے بی جے پی سے سابق میں کئے گئے اتحاد پر مسلمانوں سے معذرت خواہی کرتے ہوئے آئندہ اس غلطی کو نہ دہرانے کا اعلان کیا تھا لیکن انہوں نے اس وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ حامد محمد خاں نے کہا کہ اقتدار کی ہوس نے چندرا بابو نائیڈو کو بی جے پی سے اتحاد کیلئے مجبور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی کو فرقہ پرست قرار دیا تھا اور اب انہیں وضاحت کرنی چاہیئے کہ کیا بی جے پی سیکولر ہوچکی ہے۔ گجرات فسادات کیلئے مودی کو ذمہ دار قرار دینے والے چندرا بابو نائیڈو اقلیتوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے نریندر مودی کو ترقی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور تلگودیشم کا یہ ناپاک اتحاد دونوں پارٹیوں کیلئے نقصاندہ ہوگا اور تلنگانہ اور سیما آندھرا کے باشعور رائے دہندے دونوں پارٹیوں کو سبق سکھائیں گے۔ حامد محمد خاں نے کہا کہ تلگودیشم مخالف تلنگانہ پارٹی ہے اور چندرا بابو نائیڈو نے پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کو روکنے کیلئے لمحہ آخر تک کوشش کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT