جناب سعید شہیدی کو ’شاعرِ سیاست‘ کا درجہ : جناب زاہدعلی خان

کئی برس قبل کے کلام میں موجودہ حالات کی عکاسی، صدی تقریب سے ایڈیٹر سیاست کا خطاب
حیدرآباد 21 جنوری (سیاست نیوز) استاد شاعر جناب سعید شہیدی نے حیدرآباد ہی نہیں اقطاع عالم میں ایک خاص مقام حاصل کیا جوکہ کسی دوسرے شاعر و ادیب کو حاصل نہیں ہوا۔ بانی سیاست جناب عابد علی خان مرحوم سے انھیں بڑی قربت تھی۔ جناب سعید شہیدی کے کلام سے اُنھیں بڑا اُنس تھا۔ سعید شہیدی نے موجودہ حالات کی آج سے کئی برس پہلے اپنے کلام کے ذریعہ نشاندہی کردی۔ نئی نسل جو شعر و ادب کے میدان میں قدم رکھ رہی ہے انھیں استاد شاعر کے طرز پر شعر کہنا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست آج سعید شہیدی صدی تقاریب کے اجلاس ’’جشن سعید‘‘ سے خطاب کررہے تھے۔ یہ جشن سالار جنگ میوزیم میں منعقد ہوا۔ مولانا محمد رضا کی تلاوت قرآن مجید سے ادبی اجلاس کا آغاز ہوا۔ جناب زاہد علی خاں نے جناب سعید شہیدی سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جناب سعید شہیدی کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اُن کی تمام غزلیات کو اخبار سیاست نے شائع کیا۔ اس طرح اس صدی تقاریب کے موقع پر سیاست اُنھیں ’’شاعرِ سیاست‘‘ کا درجہ دیتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے جو ایوارڈس اُردو شاعری پر دیئے جاتے ہیں یہ پہلے حقدار تھے۔ اُردو شعراء کو چاہئے کہ وہ گُل و بلبل، پیار و محبت کی شاعری نہ کریں بلکہ ہندی شعراء کو نظر میں رکھیں جن کا منشاء و مقصد حالات حاضرہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے جھنجوڑنا ہے اس لئے اُن کی تقلید کی اولین ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ یقینا اپنی شاعری میں برق اور آشیانہ کو استعارات کے طور پر استعمال کیا لیکن جب اس پس منظر میں اشعار کو پڑھیں تو ہمارے سامنے اقتدار وقت اور مسلمان ہوں اور دیکھیں کہ استاد شاعر نے اس وقت آج کے تناظر میں جس طرح ماحول کی عکاسی کی ہے صد فیصد پوری ہوتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں اُردو کا موقف بڑا تابناک ہے جبکہ پاکستان نے اُردو زبان کو صرف قومی زبان کا درجہ دے رکھا ہے۔ آج اُردو داں کی محنت کے نتیجہ میں ایک وقت آئے گا کہ ہندوستان بھر میں اردو کا پرچم چار سُو لہرائے گا اور جس طرح حکومت اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے متعلق اٹل ہے اُسی طرح اردو زبان کے ساتھ بھی انصاف دلواکر رہے گی۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کو اردو زبان سے وابستہ کریں تاکہ وہ لائبریریوں میں بیٹھ کر اپنے پُرکھوں کی محنت جو اس زبان کے ساتھ ہوئی ہے اُس کا مطالعہ کرسکیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی (کنیڈا) نے ’’کلیات سعید شہیدی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں سعید شہیدی کے فن اور اُن کی شخصیت کے مختلف رموز کو نئی نسل سے واقف کروانے کے لئے کام کیا گیا ہے۔ سعید شہیدی ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنے اشعار کے ذریعہ مختلف موضوعات پر ہر ایک کو جھنجوڑا۔ اُن کی موضوعاتی شاعری کے علاوہ حمد، نعت اور منقبت، نوحہ پر بھی کلام پیش کیا ہے، ان کی شاعری میں درس، اخلاق، مسائل غرض کہ انسانی زندگی اور سماج و معاشرہ کے ہر زاویوں کو روشن کرتے ہوئے اُن کے حقائق کو پیش کیاکہ ہندوستانی سماج و معاشرہ مغربی تہذیب کی یلغار سے متاثر ہونے کو ہے۔ انھوں نے محاوروں اور اشاروں میں بھی بات کہہ دی۔ ظلم کی ظالمیت اور انصاف کی عمل آوری سے پیدا ہونے والے اثرات کو بڑے بلیغ انداز سے پیش کیا۔ وہ کہنہ مشق اور قادر کلام شاعر تھے۔ گل و بلبل نہیں بلکہ انسانی اقدار و خیالات کو بڑے سلیقہ سے پیش کرتے ہوئے انسانیت نوازی کا ثبوت دیا۔ پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ؍ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے کہاکہ ماضی میں استاد شعراء نے جو محنت شعر و سخن پر کی ہے نوجوان ذہن میں رکھیں اس لئے کہ جو قوم اپنے ماضی کی تاریخ کو فراموش کردیتی ہے وہ کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتی۔ اس لئے کارنامہ حیات مجموعہ ایوارڈ جو ہر سال اردو اکیڈیمی تلنگانہ کی جانب سے شاعر کو دیا جاتا ہے وہ جناب سعید شہیدی کے نام معنون ہے۔ نواب میر احترام علی خان رکن سالار جنگ میوزیم کے ہاتھوں ’’عکس سعید الشعراء‘‘ کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ انھوں نے کہاکہ نواب تراب جنگ سے جناب سعید شہیدی کے گہرے مراسم تھے اور کمسنی میں انھوں نے شاعری کی ابتداء کی اور آخری سانس تک شعر کہتے رہے ان کا ثانی پیدا نہ ہوگا۔ انھوں نے اپنے کلام میں نوحہ اور مرثیہ پر توجہ دی۔ کلیات سعید شہیدی جو ایک ضخیم کتاب ہے جسے ڈاکٹر تقی عابدی (کنیڈا) نے تحریر کیا ہے۔ اس موقع پر سعید شہیدی کے غزلیات حیدرآباد کے مشہور گلوکار وٹھل راؤ اور خان اطہر نے اپنے مخصوص انداز میں گائے۔ جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں سی ڈی کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ جناب ہادی علی خاں مسلم نے نعت سنائی اور جناب میر عابد علی خاں نے منقبت پڑھی۔ جناب رشید شہیدی نے اپنے مخصوص انداز میں جناب سعید شہیدی کا کلام پیش کیا اور نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر جناب شہزادہ گلریز رامپور، جناب میر محمد علی وفا کویت، جناب نظیر باقری اترپردیش، نواب مصطفیٰ علی خان، نواب عباس علی خان، غضنفر نواب، اسد نواب، میر فراست علی باقری، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ احسن، پروفیسر فاطمہ پروین، مولانا مرتضیٰ علی، جناب افتخار حسین فیض عام ٹرسٹ، علی محمد مختار حسین اور نوجوانوں، خواتین و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT