Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / جناب سید عمر جلیل تلنگانہ وقف بورڈ کے اولین عہدیدار مجاز

جناب سید عمر جلیل تلنگانہ وقف بورڈ کے اولین عہدیدار مجاز

وقف بورڈ میں حصول جائزہ ، آمدنی میں اضافہ اور تحفظ اوقاف اور دیگر امور کو ترجیحات
حیدرآباد۔/23اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد پہلے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے سید عمر جلیل سکریٹری اقلیتی بہبود نے آج جائزہ حاصل کرلیا۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ، وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ اور درکار اسٹاف کے تقرر اور انہیں مناسب ٹریننگ دینے کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔ سید عمر جلیل نے آج حج ہاوز پہنچ کر اپنی نئی ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر محمد اسد اللہ کے تقرر سے متعلق احکامات پیر تک جاری کرنے کا اعلان کیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے وقف بورڈ کی کارکردگی پر گہری نظر رکھنے والے سید عمر جلیل نے کہا کہ 8ستمبر کو آندھرا پردیش وقف بورڈ کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں ابھی تک جو بھی فیصلے کئے گئے ہیں ضرورت پڑنے پر ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس مدت کے دوران بورڈ نے شاید ہی کوئی فیصلہ ایسا کیا ہو جو وقف ایکٹ کے برخلاف ہو تاہم حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر ان فیصلوں کا جائزہ لے گی۔ وقف بورڈ میں 40سے زائد وظیفہ یاب افراد کے تقررات کے بارے میں حکومت کو موصولہ شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے سید عمر جلیل نے کہا کہ ان تقررات کے بارے میں وقف بورڈ سے فائیلوں کے ساتھ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ چونکہ وہ حالیہ عرصہ میں الیکشن ڈیوٹی پر تھے لہذا انہیں وقف بورڈ سے ابھی تک کوئی رپورٹ وصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ وقف بورڈ سے دوبارہ رپورٹ طلب کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ میں تجربہ کار ملازمین کی کمی اور خاص طور پر اضلاع میں اسٹاف کی کمی کے سبب اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں دشواری پیش آرہی ہے۔ وہ وقف بورڈ میں موجودہ ملازمین اور ان کے عہدوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔  اس کے علاوہ درکار اسٹاف کی تعداد کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک موزوں اسٹاف کا تقرر نہ ہو اوقافی جائیدادوں کی حفاظت ممکن نہیں ہے۔ درگاہ حضرات یوسفین ؒ کے متولی کے تقرر کو عارضی قرار دیتے ہوئے سید عمر جلیل نے کہا کہ متولی کا تقرر مستقل طور پر نہیں کیا گیا اور گزشتہ ایک سال سے درگاہ کے انتظامات وقف بورڈ کی راست نگرانی میں تھے۔ بورڈ نے اس اہم اوقافی ادارہ کے اُمور کی تکمیل کیلئے متولی مقرر کیا ہے اور یہ تقرر کا فیصلہ مستقل نہیں بلکہ عبوری ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جلد بازی میں فیصلہ کرنے کی شکایات کو غیر درست قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا بلکہ ایک سال سے وہاں کے متولی کی تولیت ختم کردی گئی اور انہیں عدالت سے بھی کوئی راحت نہیں ملی ہے لہذا وہاں نگرانکار کی ضرورت تھی جس کے لئے ایک درخواست وصول ہوئی جس کی مکمل جانچ کے بعد عبوری تقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بورڈ کے بعض ملازمین کے تساہل کا اعتراف کیا اور کہا کہ ٹرینڈ اسٹاف کی کمی اور عدالتوں میں مقدمات کی کثرت سے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملازمین کو اوقافی جائیدادوں کے بارے میں مناسب ٹریننگ فراہم کی جائے۔ 2011ء میں وقف بورڈ میں تقررات سے متعلق درخواستوں کی طلبی کے بارے میں پوچھے جانے پر سید عمر جلیل نے کہا کہ اسوقت کے سی ای او کی جانب سے بعض تقررات کی شکایت ملنے پر رپورٹ طلب کی گئی ہے اور رپورٹ ملنے کے بعد حکومت ضروری کارروائی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش وقف بورڈ کو تلنگانہ کی جانب سے 23کروڑ روپئے واجب الادا ہیں۔ وقف بورڈ کا زیادہ تر فنڈ ایف ڈی آر میں ہے اور حکومت جلد سے جلد یہ رقم آندھرا پردیش کو جاری کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بورڈ کی تقسیم کرتے ہوئے جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس میں رقم کی ادائیگی کیلئے کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست کی اوقافی جائیدادیں ہوں گی آمدنی بھی متعلقہ ریاست کے حصہ میں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں وقف بورڈ کے صرف ایک تا دو ملازمین ہیں اور وہ بھی کلرک رتبہ کے ہیں لہذا وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات میں موثر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو جو اختیارات ہونے چاہیئے وہ موجود نہیں ہیں جس کے باعث کئی جائیدادیں ناجائز قابضین کے ہاتھوں میں ہیں۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی وقف بورڈ کے اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر اختیارات فراہم کئے جائیں گے۔ اس موقع پر سابق عہدیدار مجاز ایم جے اکبر، چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ، ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، جنرل منیجر اقلیتی فینانس کارپوریشن سید ولایت حسین اور دوسرے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT