Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / جنتادل سیکولر اور کانگریس میں اتحاد سے کے سی آر پریشان

جنتادل سیکولر اور کانگریس میں اتحاد سے کے سی آر پریشان

قائدین سے مشاورت ، چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے کانگریس سے اتحاد کی مخالفت
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی (سیاست نیوز) کرناٹک میں جنتا دل سیکولر اور کانگریس پارٹی کے اتحاد نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے تیسرے محاذ کی تیاریوں پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ کے سی آر جو کانگریس اور بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری میں مصروف ہیں، تازہ ترین تبدیلی سے وہ محاذ کے ایک حلیف سے محروم ہوگئے۔ کرناٹک میں معلق اسمبلی کے بعد کانگریس نے تشکیل حکومت کیلئے جنتا دل سیکولر سے اتحاد کرتے ہوئے کمارا سوامی کو چیف منسٹر کے عہدہ کا پیشکش کیا۔ دونوں پارٹیوں کا یہ اتحاد ٹی آر ایس حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ابھی تک کرناٹک کے نتائج پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے قریبی رفقاء سے مشاورت کے دوران کے سی آر نے جنتا دل سیکولرکی کانگریس سے قربت پر حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنتا دل سیکولر کو عوامی فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن کا رول ادا کرنا چاہئے۔ کم تعداد کے باوجود چیف منسٹر کے عہدہ کو قبول کرنا عوام کے فیصلہ کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر سے ملاقات کے دوران کمارا سوامی نے کرناٹک کے نتائج کے بعد کانگریس کے خلاف تیسرے محاذ کی تیاریوں میں تیزی پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اب جبکہ کمارا سوامی نے کانگریس سے دوستی کرلی ہے۔ کے سی آر کو اپنے ایک حلیف سے محرومی کا احساس ہورہا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے لئے یہ اتحاد چونکا دینے والا ثابت ہوا۔ کے سی آر نے پارٹی قائدین سے کہا کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھیں کیونکہ یہ اتحاد بھی دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے اتحاد کے مسئلہ پر ٹی آر ایس قائدین کی رائے بھی مختلف ہے۔ بعض قائدین کرناٹک کے نتائج کو تیسرے محاذ کے قیام کی راہ میں اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض قائدین کا احساس ہے کہ بیک وقت کانگریس اور بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری آسان نہیں ہے۔ رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے کہا کہ نتائج سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کانگریس پارٹی اپنی مقبولیت کھوچکی ہے اور وہ ملک میں قیادت کے موقف میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کے سی آر نے عوامی مسائل کے حل کیلئے تیسرے محاذ کا نعرہ دیا ہے تاکہ عوام میں مقبول جماعتوں کو یکجا کیا جاسکے۔ ونود کمار نے کہا کہ ملک کے عوام بی جے پی اور کانگریس دونوں سے عاجز آچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کو بھی مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی ۔ پارٹی قائدین میں یہ بحث جاری ہے کہ کانگریس کے بغیر تیسرا محاذ کس طرح ممکن ہے۔ اگر کانگریس کے بغیر ہی محاذ پر اصرار کیا جائے تو ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے جیسی جماعتیں بھی اپنا علحدہ راستہ چن لیں گی۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی حال ہی میں کے سی آر سے ملاقات کے دوران کانگریس کے بغیر تیسرے محاذ کو ناممکن قرار دیا تھا ۔ اسی دوران رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کیشو راؤ نے کہا کہ کے سی آر کی اپیل پر کرناٹک کے عوام نے کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کمارا سوامی سے ملاقات کے دوران واضح کیا تھا کہ اگر جنتادل سیکولر کو 40 نشستیں حاصل ہوتی ہیں تو وہ چیف منسٹر بن جائیں گے۔ ٹی آر ایس قائدین کی رائے میں کانگریس کے کمزور مظاہرہ سے کانگریس کی بعض حلیف جماعتیں تیسرے محاذ میں شمولیت کیلئے تیار ہوجائیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ جنتا دل سیکولر اور کانگریس کی دوستی کا کے سی آر کے تیسرے محاذ کی کوششوں پر کس حد تک اثر پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT