Tuesday , December 19 2017
Home / ہندوستان / جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کیلئے سشما سوراج کی نیویارک آمد

جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کیلئے سشما سوراج کی نیویارک آمد

امریکہ و جاپان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کیساتھ سرکاری مصروفیات کا آغاز
نئی دہلی ۔18 ستمبر۔( سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کیلئے وزیر خارجہ سشما سوراج آج یہاں پہونچیں اور اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کے مقاصد پر پیشرفت کی مساعی کے طورپر دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔ سشما سورج اپنے زیرقیادت ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ایک ہفتہ طویل دورہ کے دوران اس اجلاس میں شرکت کرنے والے قائدین کے ساتھ توقع ہے کہ 20 سے زائد دو فریقی اور سہ فریقی ملاقاتیں کریں گی ۔ امریکہ میں متعین ہندوستانی سفیر نوتیج سرنا اور اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ سید اکبرالدین نے سشما سوراج اور ان کے زیرقیادت وفد کا نیویراک ایرپورٹ پر استقبال کیا ۔ سشما سوراج اپنے امریکی و جاپانی ہم منصبوں بالترتیب ریکس ٹلرسن اور تاروکونو سے تین فریقی ملاقات کے ساتھ اپنی سرکاری مصروفیات کا آغاز کریں گی ۔ ایک ایسے قت جب چین اس علاقہ میں طاقت آزمائی میں مصروف ہے اور ان تین ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان تعاون میں غیرمعمولی اضافہ کے درمیان اس ملاقات کونمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ سشما سوراج اپنے مصروف ترین دن کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گی ۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے اصلاحات پر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت بھی کریں گی ۔ ہندوستان بھی ان 120 ملکوں میں شامل ہے جنھوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے کی جانیوالی اصلاحات کی مساعی کی تائید کی ہے ۔ سشما سوراج کی مصروفیات کے بارے میں سید اکبرالدین نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی ، دہشت گردی ، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور امن فوج جیسے اُمور و مسائل اس سال ہندوستان کیلئے نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔ سشما سوراج 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گی ۔ سید اکبرالدین نے ہندوستانی صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال پر سشما سوراج اور ان کے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کے درمیان باہمی ملاقات کے کسی امکان کو مسترد کردیا ۔ تاہم ان دونوں وزرائے خارجہ کا مختلف ہمہ فریقی اجلاسوں میں آمنا سامنا ہوگا ۔ جن میں سارک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT