Tuesday , August 14 2018
Home / سیاسیات / جنرل راوت کے ریمارکس پر کشمیر اسمبلی میں زبردست ہنگامہ

جنرل راوت کے ریمارکس پر کشمیر اسمبلی میں زبردست ہنگامہ

مساجد ومدارس پر کنٹرول ، نصاب تعلیم تبدیل کرنے کے بیان پر ریاست بھر میں برہمی
جموں ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی میں آج اپوزیشن جماعتوں خاص کر نیشنل کانفرنس نے زبردست ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن ارکان فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے اس ریمارک پر برہمی کا اظہار کررہے تھے، جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سرکاری مدارس اور سوشیل میڈیا بنیاد پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔ جنرل راوت جمعہ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ سوشیل میڈیا اور سرکاری مدارس ریاست میں غلط اور گمراہ کن پروپگنڈہ کے ذریعہ نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں جس کے بعد ریاست میں شدید برہمی پھیل گئی۔ فوجی سربراہ اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ریاست میں چند مدارس اور مساجد کو کنٹرول کرنے کیلئے میکانزم تیار کیا جائے اور انہوں نے نصاب تعلیم میں بھی تبدیلی لانے کی وکالت کی تھی۔ آج جیسے ہی اسمبلی اجلاس کا آغاز ہوا، نیشنل کانفرنس کے ارکان اپنی بینچوں پر کھڑے ہوگئے اور شوروغل اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے چیف منسٹر محبوبہ مفتی سے فوجی سربراہ بپن راوت کے نامناسب ریمارکس پر بیان دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ دلچسپ پہلو یہ رہا کہ خود وزیر تعلیم جموں و کشمیر الطاف بخاری نے فوجی سربراہ بپن راوت پر ریاستی اُمور میں مداخلت کا الزام عائد کیا جبکہ دوسری جانب ریاستی بی جے پی ترجمان بریگیڈیئر (ر) انیل گپتا نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزراء کو حقیقت کو قبول کرنا چاہئے، بجائے اس کے کہ وہ فوجی سربراہ کے بیان کو غلط معنوں میں لیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر راوت کے ریمارکس کو مثبت نکتہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے اور اسے سیاسی موضوع بنانے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا کہ فوجی سربراہ کا بیان انتہائی تکلیف دہ اور نامناسب ہے۔ انہیں اس طرح کے تکلیف دہ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے چونکہ اس سے کشمیریوں میں غلط پیام جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT