Wednesday , December 12 2018

جنوبی آفریقہ میں نیلسن منڈیلا صدی تقریبات سے بارک اوباما کا خطاب

COLOMBO, JULY 18 :- South Africa's captain Faf du Plessis and South African High commissioner to Sri Lanka Robina Marks look on during an event to mark the former South African leader Nelson Mandela's 100th birthday in Colombo, Sri Lanka July 18,2018. REUTERS-15R

جوہانسبرگ۔ 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی آفریقہ میں سابق صدر نیلسن منڈیلا کی پیدائش کی صدی تقریبات منائی جارہی ہیں جہاں ایک ٹاؤن ہال ’’فورم‘‘ نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے جہاں سابق صدر امریکہ بارک اوباما اور نسل پرستی کے خلاف تحریک چلانے والے نیلسن منڈیلا کی بیوہ نے بھی شرکت کی۔ 18 جولائی 1918ء کو پیدا ہوئے نیلسن منڈیلا کا جنم دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن نے عوام سے اپیل کی کہ جو تحریک نیلسن منڈیلا نے شروع کی تھی، اسے جاری رکھا جائے تاکہ لوگوں کو نسل پرستی سے نفرت ہوجائے۔ جوہانسبرگ کے ایک اسٹیڈیم میں موجود 15,000 افراد سے بارک اوباما نے خطاب کیا اور وہ زمانہ یاد کیا جب 1990ء کی دہائی میں منڈیلا کو جیل سے رہائی ملی تھی، کیونکہ اُس وقت پوری دُنیا میں منڈیلا کی رہائی سے خوشیو کی لہر دوڑ گئی تھی اور لوگوں میں یہ اُمیدیں پیدا ہوگئی تھیں کہ اب کم سے کم دنیا سے نہ سہی جنوبی آفریقہ سے تو نسل پرستی کا خاتمہ ہوکر ہی رہے گا اور ہوا بھی ایسا ہی! اوباما نے کہا کہ دنیا کے مایوس لوگوں کیلئے منڈیلا کی زندگی ایک سبق اور تحریک ہے۔ ملک میں جمہوریت اور آزادی کیلئے منڈیلا کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ نیلسن منڈیلا کا 2013ء میں انتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے جنوبی آفریقہ میں اقلیتی سفید فام حکومت کے خلاف جو لڑائی شروع کی تھی، اس کے بعد وہ ہر ایک کے لئے ایک رول ماڈل بن گئے۔ 27 سال تک جیل کی صعوبتیں جھیلنے کے بھی انہوں نے امن، بھائی چارہ اور مفاہمت کی راہ اپنائی۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما یوں تو خود بھی نیلسن منڈیلا کے زبردست مداح رہے ہیں لیکن انہوں نے منڈیلا سے 2005ء میں صرف ایک بار مختصر سی ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب جاریہ سال جنوبی آفریقہ کے صدر بننے والے سائرل راما فوسا نے کہا کہ وہ اپنی نصف تنخواہ ’’منڈیلا۔ 100‘‘ کے نام سے عطیہ کردیں گے اور انہوں نے دیگر لوگوں سے بھی خواہش کی کہ وہ اپنی اپنی نصف تنخواہیں عطیہ کردیں۔ راما فوسا، ’’منڈیلا ڈے‘‘ مشرقی صوبہ کیپ کے ونیرو نامی مقام پر گذاریں گے جو منڈیلا کا مقام پیدائش ہے۔ تقریبات میں ایک دواخانہ کا افتتاح ، شجرکاری اور معمر افراد کو بلانکٹس تقسیم کیا جانا شامل ہے جبکہ منڈیلا کی بیوہ مشیل گریسا نیلسن منڈیلا کے پیغام کے تحت ایک مختصر سے واک میں حصہ لیں گی۔ علاوہ ازیں جیل میں منڈیلا نے جو خطوط تحریر کئے تھے ، ان کے مجموعہ پر مشتمل کتاب کی رسم اجرائی انجام دی جائے گی۔ اوباما نے مزید کہا کہ آج دنیا میں غیریقینی ، عجیب و غریب کیفیت ہے اور ڈر کی سیاست کا بول بالا ہے ، بار بار جھوٹ بولا جارہا ہے ، سچائی کو بھی چھپایا جارہا ہے۔ یہ باتیں دراصل اوباما کے جانشین ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب اشارہ تھیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ جنوبی آفریقہ کی اُس وقت کی نسل پرست حکومت نے 1962 ء میں نیلسن منڈیلا کو جیل بھیج دیا تھا ۔ طویل عرصہ بعد یعنی 1990ء میں منڈیلا رہا ہوئے۔ 1994ء میں آفریقن نیشنل کانگریس پارٹی کی انتخابی جیت کے بعد نیلسن منڈیلا جنوبی آفریقہ کے صدر بنے، لیکن صرف ایک میعاد تک ہی انہوں نے حکمرانی کی اور 1999ء میں صدارتی عہدہ چھوڑ دیا۔

TOPPOPULARRECENT