Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / جنوبی ایشیا میں داعش کے بڑھتے اثرات خطرہ کی علامت

جنوبی ایشیا میں داعش کے بڑھتے اثرات خطرہ کی علامت

MONTREUX, SWITZERLAND - JANUARY 22: United Nations Secretary-General Ban Ki-Moon attends a press conference on the first day of Geneva II Conference in Montreux, Switzerland on January 22, 2014. (Photo by Evren Atalay/Anadolu Agency/Getty Images)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں سیکریٹری جنرل بان کی مون کا انتباہ
اقوام متحدہ۔ 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان۔ کی۔مون نے آج دولت اسلامیہ دہشت گرد گروپ کے بڑھتے ہوئے خطرہ کا انتباہ دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں بھی دولت اسلامیہ کا اثر پاکستان کی ’’تحریک ِ خلافت‘‘ کے ذریعہ محسوس کیا جارہا ہے۔ سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے مسٹر مون نے دولت اسلامیہ نے جس طرح مغربی اور شمالی آفریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینا شروع کیا ہے، وہ یقیناً باعث تشویش ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں دولت اسلامیہ نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعہ رابطوں کا ایک لامتناعی جال پھیلا رکھا ہے اور تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں کی بھی قابل لحاظ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 18 ماہ کے دوران ہی دولت اسلامیہ نے اپنے رسوخ میں جو اضافہ کیا ہے، وہ یقیناً فکرمند کرنے والی بات ہے۔ تنظیم سے ہمدردی رکھنے والے دولت اسلامیہ کے نام پر حملے کرتے ہیں۔ بان۔کی۔ مون کی رپورٹ کو سلامتی کونسل میں جیفری فیلٹ مین نے پیش کیا تھا جو سیاسی اُمور کے انڈر سیکریٹری جنرل ہیں۔ یہ رپورٹ دولت اسلامیہ سے درپیش خطرات کے موضوع پر ایک نباحث کے دوران پیش کی گئی تھی۔ رپورٹ میں مسٹر مون نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ 13 جنوری 2016ء پاکستان اور افغانستان سے سرگرمیاں انجام دینے والا دولت اسلامیہ خراسان پروونس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے افغانستان کے شہر جلال آباد میں واقع پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بان ۔کی۔

مون نے کہا کہ دولت اسلامیہ یا داعش میں جس طرح کے روابط، منصوبہ بندی اور عصری طور طریقہ سے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی ہے، وہ مستقبل میں مزید تشویشناک ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید براں دیگر دہشت گرد گروپس بشمول اسلامک یوتھ شوریٰ کونسل اسلامک اسٹیٹ آف عراق اور لیونٹ لیبیا پراونس جو لیبیا میں ہے، کیروان کے مجاہدین اور تیونیشیا میں موجود جندالخلیفہ، اسلامک موومنٹ آف ازبیکستان، پاکستان کی تحریک خلافت اور فلیپائن کی انصار الخلیفہ اسی تنظیمیں ہیں جو اپنے نظریات پر اس طرح قائم ہیں کہ اپنی نام نہاد اور خود ساختہ خلافت سے ملحق ہونے کا استدلال پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دولت اسلامیہ کو بیرونی جنگجوؤں کی شمولیت سے بھی بہت فائدہ ہوا جو اپنی برادری کو چھوڑتے ہوئے داعش کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ ان تمام جنگجوؤں کی واپسی نے مزید تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ ان کی واپسی کے بعد دولت اسلامیہ کی سرگرمیاں خود ان کے (بیرونی جنگجو) وطن تک وسعت اختیار کرسکتی ہیں اور ان بیرونی جنگجوؤں کی جنگی مہارت کا استعمال بھی کرسکتی ہے اور اس طرح ان جنگجوؤں کے ذریعہ نئی بھرتیاں بھی آسانی سے کی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ میں دولت اسلامیہ کے مالی استحکام کا بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے یہ سفارش کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ممالک کا بیرونی جنگجوؤں کے ذریعہ سفر کرنے کو ’’مجرمانہ کارروائی‘‘ سے تعبیر کرے۔

TOPPOPULARRECENT