Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جنوبی ریاستوں میں لسانیات پر مشتمل سیاسی محاذ، چندرابابو پر نظریں مرکوز

جنوبی ریاستوں میں لسانیات پر مشتمل سیاسی محاذ، چندرابابو پر نظریں مرکوز

زبان، تہذیب و تمدن کے تحفظ کیساتھ ایجنڈے پر عمل، بی جے پی کی لسانی بنیاد پرستی کو دھکہ

حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) جنوبی ہند میں بی جے پی کے چراغ کو جلنے سے قبل ہی بجھانے کی کوششوں کا آغاز ہونے کے بعد اب لسانی بنیاد پرستی کا ایک اور سیاسی پہلو منظر عام پر آرہا ہے۔ ریاستیں جو علاقوں کے علاوہ لسانیت پر وجود میں آئی تھیں اب سیاست ریاست سے زیادہ زبان اور تہذیب و تمدن و ثقافتی پہچان کی فکر میں جٹ گئی ہیں جس سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے عزائم و مقاصد کو بہت زیادہ نقصان ہوگا بلکہ ایسی صورتحال میں ان پارٹیوں کا حالات سے مقابلہ اب خود ان کے وجود کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ چونکہ سیاسی کہاوت مشہور ہے سیاست میں فیصلے کی نہیں وقت کی اہمیت ہوتی ہے لیکن مسلسل کامیابیاں اور اقتدار کے جنون میں مگن بی جے پی نے چند ایسے فیصلے کئے ہیں جس کے وقت اور اس وقت کی اہمیت کا اُسے اندازہ نہیں رہا جو خود اس کے سیاسی مستقبل بلکہ اس کے سیاسی عزائم کیلئے بھی خطرہ بن گیا ہے۔ خیر اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ جنوبی ہند کے سیاسی مبصرین، ادیب، شعراء، سماجی کارکن، مفکرین، دانشوروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، مختلف مذہبی، ملی، تہذیبی، فلمی، کلچرل تنظیموں سے وابستہ افراد اس موقع کو غنیمت جانتے ہیں۔ چونکہ اب مسئلہ صرف جنوبی ہند نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ بن جائے گا۔ جیسا کہ مختلف معاملات اور اُمور میں جس طرح شمال مشرقی ریاستوں کو آزادی حاصل ہے اس طرح اب ہر ریاست کو اپنا الگ حق اور اس کا حصہ درکار ہوسکتا ہے جیسا وہ چاہتے ہیں اور مسئلہ جنوبی ہند کی 5 ریاستوں سے ہٹ کر رہے گا۔ چونکہ مہاراشٹرا میں علاقائی سیاسی پارٹی شیوسینا علاقائی زبان کی بقاء اور کلچرل کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور یہ پارٹی علاقہ کے لئے کسی کے بھی خلاف جاسکتی ہے۔ جبکہ اس علاقہ میں مزید سیاسی پارٹیاں این سی پی، ایس پی، بی ایس پی اور ایم این ایس بھی ہیں لیکن شیوسینا کو کافی اثردار مانا جاتا ہے۔ اس طرح چھتیس گڑھ، اڑیسہ، مغربی بنگال ان میں ریاستوں میں لسانی حیثیت کو فروغ دیتے ہوئے لسانی جذبہ کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ علاقائی پارٹیوں کو مضبوط موقف حاصل ہوسکے اور دوسری جماعتیں اثرانداز نہ ہوسکیں۔ اس جانب ہندو بنیاد پرست تنظیم آر ایس ایس نے بھی اپنا ایجنڈہ تیار کرلیا ہے بلکہ عمل آوری بھی شروع کردی ہے۔ علاقائی زبانوں کے تحفظ کے نام پر عوام میں اپنی پالیسی کو پہونچانے کے لئے تنظیم سرگرم ہوچکی ہے تاکہ ان کے سیاسی پلیٹ فارم کو وہ مضبوط کرسکیں لیکن اس معاملہ میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اب ان ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کا محاذ بنے گا جو مضبوط موقف کے ساتھ ساتھ مرکز میں مضبوط حکومت بھی قائم کرے گا جوکہ موجودہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے کنٹرول سے باہر ہوگا۔ اس تعلق سے بھی سیاسی مبصرین کی نظریں جنوبی ہند پر ٹکی ہوئی ہیں اور چندرابابو نائیڈو صدر تلگودیشم و چیف منسٹر آندھراپردیش پر جمی ہوئی ہیں۔ چونکہ ان کی سیاسی صلاحیت اور انتظامی اُمور کے مخالفین بھی قائل رہتے ہیں جنھوں نے این ڈی اے سے علیحدگی کے بعد بی جے پی کو راست یا بالراست دھمکی دی ہے کہ یہ ان کا پہلا قدم ہے اور آگے دیکھتے جاؤ کیا کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ انھیں عوام نے ترقی کی اُمید پر اقتدار سونپا ہے۔ وہ کسی کی خوش آمد کے لئے اپنی عوام سے دھوکہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے اپنی بات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام بھی انھیں کی پسند تھے۔ انھوں نے کہاکہ وہ ریاست آندھراپردیش کی ترقی کو کسی بھی حال انجام دیں گے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے۔ وہ سیاسی سازشوں سے ڈرنے والے نہیں بلکہ 40 سالہ سیاسی زندگی میں بہت سے حالات کا بہ خوبی سامنا کیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے ماہرین، دانشوروں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ چندرابابو نائیڈو ہر لحاظ سے قابل اعتماد شخصیت ہے اور انھیں کئی محاذوں اور جنوبی ہند کی علاقائی پارٹیوں بالخصوص بائیں بازو کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے اور ان کی شخصیت پر بھروسہ و اعتماد سے علاقائی پارٹیاں آپسی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فام پر جمع ہوکر ایک ایجنڈے کے لئے کام کرسکتی ہیں۔ چونکہ ٹامل ناڈو کی سیاست میں حالیہ دنوں داخلہ لینے والے معروف فلم اسٹار کمل ہاسن نے بھی یہ پیغام اپنے جھنڈے اور ایجنڈے سے دے دیا ہے کہ وہ جنوبی ہند کی ریاستوں کی اپنی پہچان چاہتے ہیں۔ ان کی پارٹی کے جھنڈے میں 6 ریاستوں کے اتحاد کا پیغام ہے۔ ان حالات میں کرناٹک میں کانگریس کو مزید محنت کی ضرورت پڑے گی۔ اب پارٹی قیادت کو فخر کے دائرے سے باہر آتے ہوئے اپنی بقاء کے لئے علاقائی جماعتوں کا ساتھ دینا ہوگا جو اس کے سیاسی وجود اور اس کے مستقبل کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ جنوبی ہند میں چندرابابو نائیڈوجیسے قائد کی موجودگی اور قائدانہ صلاحیتوں سے مرکز کی بی جے پی کو افسوس ہوگا کہ انھوں نے محاذ سے ایسی شخصیت کو جانے دیا جو اس کے سیاسی عزائم کو تباہ کرسکتی ہے اور ان کے سیاسی کامیابی کے سفر پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ انھیں پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT