Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس دونوں کوریاؤں کی عوام کیلئے نئے سال کا تحفہ

جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس دونوں کوریاؤں کی عوام کیلئے نئے سال کا تحفہ

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے وزراء کی گرمجوشی سے ملاقات
1950-53 کی کوریائی جنگ کے بعد منقسم خاندانوں کے دوبارہ ملاقات متوقع
امن اولمپکس سے موسوم کیا جائے گا
سیول ۔ 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا نے جنوبی کوریا میں منعقد شدنی سرمائی اولمپکس کیلئے اپنے اتھیلیٹس اور ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کی پیشکش کی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ دونوں کوریاؤں کے درمیان آج زائد از دو سال سرکاری سطح پر پہلی بار مذاکرات ہوئیں جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے یکے بعد دیگرے نیوکلیئر میزائل ٹسٹنگ کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہیکہ 1950-53ء کی کورین جنگ میں جو خاندان منقسم ہوگئے تھے ان کا دوبارہ ملاپ بھی سرمائی اولمپکس کے دوران ہوگا۔ دونوں کوریاؤں کے درمیان بات چیت غیرفوجی علاقہ پنیمونیم میں ہوئی۔ یہ علاقہ یا جزیرہ نما ایسا ہیکہ شمالی کوریا سے جنوبی کوریا یا جنوبی کوریا سے شمالی کوریا میں داخل ہونے کے لئے صرف ایک چھلانگ ہی کافی ہے۔ ملاقات کے وقت جنوبی کوریا کے یونیفکیشن منسٹر چویانگ ۔ گیان اور شمالی کوریا وفد کے کلیدی رکن ۔ ری ۔ سان گون نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ شمالی کوریا کے آداب حکومت کے مطابق ری نے اپنے کوٹ کے بائیں جانب ایک بیاج لگا رکھا تھا جس پر ملک کے بانی کم ۔ II سانگ اور ان کے فرزند و جانشین کم جونگ ۔ II کی تصاویر تھیں۔ مسٹر چو نے بھی اپنے کوٹ پر ایک بیاج لگا رکھا تھا جس پر جنوبی کوریا کے پرچم کی تصویر تھی۔ شمالی کوریا نے سرمائی اولمپکس کے لئے اپنے کھلاڑیوں کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی جنوبی کوریا روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے وائس نوٹیفکیشن منسٹر چون بائی سانگ نے اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی۔ یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں دونوں کوریاؤں کی ٹیمیں اور وفد ایک ساتھ مارچ پاسٹ میں شرکت کریں گی اور ساتھ ہی منقسم خاندانوں کے دوبارہ ملاپ کا اہتمام بھی کیا جائے گا جو یقینا ایک تاریخی موقع ہوگا۔ علاوہ ازیں ’’حادثاتی جھڑپوں‘‘ کی روک تھام کے لئے ریڈکراس مذاکرات اور فوجی سطح پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسٹر ای نے اس موقع پر مسکراتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ دونوں کوریاؤں کی عوام کو نئے سال کا تحفہ دیا جائے۔ انہوں نے ایک ضرب المثل بھی کہی جس کے مطابق اگر کوئی دو افراد کسی سفر کا آغاز کرتے ہیں تو وہ سفر زیادہ دنوں تک چلتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اسی سفر کوئی اکیلا ہی روانہ ہو۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے قائدین کے درمیان قبل ازیں جو ملاقاتیں ہوئی تھیں وہ محض نشستند، گفتند اور برخاستند پر مشتمل تھیں لیکن اب کی بار جو ملاقات ہوئی وہ انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ مسٹر چو نے کہا کہ دونوں کوریاؤں کے عوام شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کو امن اور مصالحت کی راہ پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بہرحال یہ کہا جاسکتا ہیکہ حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان جو لفظی جھڑپیں ہوئیں جن میں دونوں نے ایک دوسرے کی جی بھر کر توہین کی۔ آج کی مذاکرات کا ماحول بالکل برعکس تھا۔ جنوبی کوریا اولمپکس کو ’’امن اولمپکس‘‘ سے موسوم کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ سوچ مثبت بھی ہے جس کا انعقاد پیونگ چانگ میں ہوگا۔ حقیقی معنوں میں اگر اولمپکس کو ’’امن اولمپکس‘‘ میں تبدیل کرتا ہے تو شمالی کوریا کو صرف زبانی وعدے نہیں بلکہ حقیقی طور پر اپنے کھلاڑیوں اور وفد کو جنوبی کوریا بھیج کر یہ ثابت کرنے کا اچھا موقع ہے۔ دنیا میں آج ہر طرف افراتفری، بے چینی، جنگ و جدال، قتل و غارت گری اور استحصال کا دور دورہ ہے۔ صرف اسپورٹس کا شعبہ ایسا ہے جہاں آج بھی ہم فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج مشرق وسطیٰ سے امریکہ اور شمالی کوریا سے ملائشیا، چین اور جاپان تک کہیں نہ کہیں سیاسی بے چینی ضرور ہے لیکن اس کے باوجود کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، ہینڈبال، بیس بال، ٹینس، بیڈمنٹن، گولف، کیرم، ٹینل ٹیلنس، کبڈی اور اس طرح کے کئی اسپورٹنگ ایونٹس کا اپنے وقت مقررہ پر انعقاد کیا جارہا ہے۔ پاکستان جسے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک کہا جارہا ہے اور جس کی وجہ سے خود پاکستان کی سرزمین پر کوئی بھی کرکٹ کھیلنے تیار نہیں، اپنے مقابلے ابوظہبی، شارجہ اور دیگر نیوٹرل مقامات پر منعقد کروا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT