Thursday , December 13 2018

جنوبی کوریا میں جہاز غرق، 4 ہلاک، 292 لاپتہ

سیول 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسافر بردار بحری جہاز جس میں 459 افراد سفر کررہے تھے، جن کی بیشتر تعداد ہائی اسکول کے طلبہ کی تھی، جنھیں اسکول کی جانب سے ایک سیاحتی جزیرہ کے سفر پر لیجایا جارہا تھا، جنوبی کوریا کے جنوبی ساحل کے قریب غرق ہوگیا۔ جس کی وجہ سے 4 افراد ہلاک اور تقریباً دیگر 300 لاپتہ ہوگئے۔ حالانکہ بیسیوں بحری جہاز اور ہیلی

سیول 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسافر بردار بحری جہاز جس میں 459 افراد سفر کررہے تھے، جن کی بیشتر تعداد ہائی اسکول کے طلبہ کی تھی، جنھیں اسکول کی جانب سے ایک سیاحتی جزیرہ کے سفر پر لیجایا جارہا تھا، جنوبی کوریا کے جنوبی ساحل کے قریب غرق ہوگیا۔ جس کی وجہ سے 4 افراد ہلاک اور تقریباً دیگر 300 لاپتہ ہوگئے۔ حالانکہ بیسیوں بحری جہاز اور ہیلی کاپٹرس کئی گھنٹے تک راحت اور بچاؤ کارروائی میں سرگرم رہے۔ 4 افراد کے ہلاک اور 55 کے زخمی ہونے کی توثیق ہوچکی ہے۔ لاپتہ ہوجانے والے افراد کی کثیر تعداد اندیشہ ہے کہ بحری جہاز میں پھنسی ہوئی ہے یا سمندر کی سطح کو موجوں کے ساتھ بہہ رہی ہے۔ جنوبی کوریا کا 1993 ء کے بعد یہ سب سے بڑا بحری حادثہ ہے۔ 1993 ء میں 292 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک طالب علم لم ہیونگ من نے وائی ٹی این ریڈیو پر کہاکہ اُسے بچالیا گیا ہے جبکہ وہ اور دیگر طلبہ لائف جیکٹ پہن کر سمندر میں کود پڑے تھے اور تیر کر قریبی بچاؤ کشتی تک پہونچ گئے تھے۔ بحری جہاز دہل رہا تھا اور جھکنا شروع ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اُن سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سمندر میں چھلانگ لگادی۔

اُس نے کہاکہ بعض افراد زخمی تھے اور اُن کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ اِس نے کہاکہ سمندر کا پانی بہت سرد تھا اور وہ جلد سے جلد کنارے پر پہونچ جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ زندہ رہنے کی خواہش رکھتا تھا۔ مقامی ٹی وی اسٹیشنوں نے بحری جہاز کی جھلکیاں دکھائی ہیں جن میں اُسے ایک پہلو ایک طرف جھکتے ہوئے اور آہستہ آہستہ غرق ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جبکہ مسافر سمندر میں چھلانگیں لگا رہے تھے یا ہیلی کاپٹرس کی رسیوں کو پکڑ کر لٹک رہے تھے۔ مقام حادثہ پر کم از کم 87 بحری جہاز اور 18 طیارے راحت رسانی اور بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں۔ بچاؤ کارکن ڈوبتے ہوئے بحری جہاز کے پہلوؤں پر چڑھ گئے اور اُنھوں نے نارنگی رنگ کی لائف جیکٹیں پہنے ہوئے مسافرین کو کھینچ کر باہر نکالا۔ بعدازاں جہاز مکمل طور پر اُلٹ گیا اور سست رفتار سے غرق ہونے لگا۔ چند گھنٹے کے اندر اندر اِس کا نیلا اور سفید بادبان پانی پر بہتا ہوا دیکھا گیا لیکن وہ بھی بہت جلد غرق ہوگیا۔ 160 ساحلی محافظین اور بحریہ کے غوطہ خور بحری جہاز کے ملبہ سے زندہ بچ جانے والے لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT