Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / جنگلات کی کٹوائی قوانین میں تاخیر خطرناک

جنگلات کی کٹوائی قوانین میں تاخیر خطرناک

قبائیلیوں اور جنگل کے ساکنوں کو خطرہ کا امکان ، سینئر کانگریس قائد جئے رام رمیش کا بیان
نئی دہلی ۔ 14 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس قائد جئے رام رمیش نے کہا کہ مرکز کی جانب سے ایسے قوانین کی تدوین جس کے تحت جنگلات کی کٹوائی کے نتیجہ میں متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنا ہوگا کی منظوری میں تاخیر سے قبائیلیوں اور جنگلات میں رہنے والوں کے حقوق کو سنگین خطرہ لاحق ہے ۔ قوانین ہنوز مدون نہیں کئے گئے ہیں اور نہ اُنھیں برسرعام ظاہر کیا گیا ہے ۔ حالانکہ سابق وزیرماحولیات انیل مادھو نے راجیہ سبھا میں جولائی 2016 ء میں تیقن دیا تھا ۔ جئے رام رمیش نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن اور صدرنشین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈؤ کو اس سلسلے میں علحدہ علحدہ مکتوب روانہ کئے ہیں۔ 28 جولائی 2016 ء کو آنجہانی دووے نے ایوانِ بالا میں تیقن دیا تھاکہ اس قانون کی دفعات کو عاملہ کے ساتھ مشاورت کے بعد اور مختلف دلچسپی رکھنے والے افراد بشمول ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مشاورت کے بعد قطعیت دی جائے گی ۔ دووے نے ایوان کو یہ بھی تیقن دیا تھا کہ جنگلاتی حقوق قانون 2006 ء کے تحت گرام سبھاؤں کے حقوق بھی شامل کئے گئے ہیں ان کا بھی مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ جنگلات کی کٹوائی پر اس قانون کے تحت اُنھیں بھی معاوضہ ادا کیا جائے گا اور کٹوائی متعلقہ گرام سبھا کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی ۔ سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے ایوان بالا میں تقریر کے دوران یہ بات کہی تھی ۔ دیڑھ سال بعد یہ قواعد اب تک بھی برسرعام ظاہر نہیں کئے گئے ۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ اُنھیں کوئی جواب بھی موجودہ وزیر ماحولیات نے نہیں دیا ۔ انھوں نے راجیہ سبھا میں 19 جولائی 2017 ء کو اس کا خاص طورپر تذکرہ کیا تھا ۔ دریں اثناء جنگلات کی کٹوائی کی سرگرمیاں معاوضہ ادا کئے بغیر جاری ہیں ۔ لاکھوں قبائیلیوں اور دیگر روایتی جنگل کے ساکنوں کا روزگار اور حقوق خطرہ میں ہیں ، اُن کے خاندانوں کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہے ۔ رمیش نے کہاکہ اُن کا تاثر یہ ہے کہ حکومت قواعد مدون کرنا نہیں چاہتی اور نہ جنگلات کی کٹوائی فنڈ قانون 2016 ء کا برسرعام اعلان کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت مختلف دلچسپی رکھنے والے افراد اور ممتاز افراد جیسا کہ اُس نے وعدہ کیا تھا تبادلۂ خیال بھی کرنا نہیں چاہتی ۔ جئے رام رمیش نے روزنامہ ہندوکو اپنے مکتوب میں راجیہ سبھا کے خصوصی تبصرے کا حوالہ بھی دیا ہے اور وقفۂ صفر میں عاجلانہ جواب دینے کی نوٹسوں کا بھی ذکر کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT