Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رکنے تک پاکستان سے بات چیت نہیں

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رکنے تک پاکستان سے بات چیت نہیں

سرینگر 15 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے ساتھ اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں کی جائیگی جب تک وہ لائین آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا ۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ خارجہ جنرل ( ریٹائرڈ ) وی کے سنگھ نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا عمل اس لئے رک

سرینگر 15 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے ساتھ اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں کی جائیگی جب تک وہ لائین آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا ۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ خارجہ جنرل ( ریٹائرڈ ) وی کے سنگھ نے آج یہ بات کہی ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا عمل اس لئے رک گیا ہے کیونکہ پاکستان کی جانب سے ہندوستان پر فائرنگ کی جا رہی ہے ۔ بات چیت کو روکنے کی یہی وجہ ہے ۔ سابق فوجی سربراہ نے کہا کہ ہندوستان نے ‘ پاکستان کو یہ پیام دیدیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور بات چیت ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ۔ یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ دونوں متضاد باتیں ہیں اور یہ ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتیں۔ چین کے ساتھ لداخ میں جاری تعطل کے سلسلہ میں وی کے سنگھ نے کہا کہ چین کے ساتھ بھی بات چیت کا عمل جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں حقیقی خط قبضہ ہے اور اس خط قبضہ کے تعلق سے دونوں ممالک کے خیالات مختلف ہیں۔

جنرل سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر ژی جن پنگ کے مابین بات چیت کے دوران بھی یہ مسئلہ موضوع بحث رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں حال ہی میں وزیر اعظم ہند اور صدر چین کے مابین جو بات چیت ہوئی ہے اس میں ان مسائل کو بھی اٹھایا گیا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ اس بات چیت کے نتائج کو دیکھا جائیگا ۔ وی کے سنگھ نے جموں و کشمیر میں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات کے قانون کی مدافعت کی اور کہا کہ یہ قانون غلطی کرنے والے فوجی جوانوں کیلئے ڈھال نہیں بن سکتا جس کی مثال یہ ہے کہ ماشل فرضی انکاونٹر کے ذمہ دار فوجیوں کو سزائے عمرقید سنائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون فوجیوں کو غیر محدود اختیارات نہیں دیتا ۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ماشل میں کیا ہوا ۔ یہاں پانچ فوجی جوانوں اور دو عہدیداروں کو سزائے عمر قید دیدی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیویلین عدالت نے اتنے مختصر وقت میں اس طرح کا فیصلہ نہیں دیا تھا ۔

سابق فوجی سربراہ یہاں بی جے پی ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین سے ملاقات کیلئے آئے ہیں کیونکہ یہاں اسمبلی انتخابات ہونیو الے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے کا قانون بہتر ہے اور جہاں کہیں سپاہیوں کی جانب سے کوئی غلطی ہوتی ہے فوج کی جانب سے فوری کارروائی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس کا جائزہ لینے کے بعد یہ تاثر دیا ہے کہ یہ قانون درست ہے ۔ ایسے میں فوجی جوانوں کو غیر محدود اختیارات حاصل نہیں ہوجاتے جیسا کہ کچھ لوگ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس قانون کے تعلق سے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بیان کے تعلق سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس لیڈر کے بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ وہ مختلف اوقات میں مختلف اظہار خیال کرتے ہیں۔ وہ خود نہیں جانتے کہ وہ کس تناظر میں بات کر رہے ہیں۔ وی کے سنگھ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر انتخابات میں ان کی پارٹی بہتر مظاہرہ کریگی-

Top Stories

TOPPOPULARRECENT