Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / جنگ بندی کی خلاف ورزیاں

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں

جستجو کا سلسلہ ملتا نہیں
زندگی کا راستہ ملتا نہیں
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
ایل او سی پر بڑھتی کشیدگی، فائرنگ، شلباری اور پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے درمیان وادی کشمیر اور جموں کا سرحدی علاقہ ان دنوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید تلخ بنارہا ہے۔ حکومت پاکستان پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے بلکہ حکومت پاکستان بھی سرحدی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں وضاحت نہیں کررہی ہے۔ ایسے میں وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کرکے ان  جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی جانب توجہ دلائی ہے۔ پاکستان کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ سرحدی علاقوں میں واقع بستیاں ان دنوں سرحد پر ہونے والی فائرنگ اور شلباری سے پریشان ہیں۔ کئی مواضعات کا تخلیہ کرادیا گیا ہے اور کئی افراد سرکاری بنکرس میں زیرزمین اپنے دن گذار رہے ہیں۔ حال ہی میں کئی سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والے مواضعات کے افراد کو سرنگوں میں رکھا گیا۔ یہ بنکرس حکومت نے شلباری سے محفوظ رکھنے کیلئے بنائے تھے۔ اس طرح کے بنکرس سرحدی علاقوں میں قائم کئے گئے ہیں جہاں لوگ پاکستانی فوج کی فائرنگ اور شلباری سے بچنے پناہ لیئے ہیں۔ حال ہی میں ایک لڑکا رات بھر بنکرس میں پناہ لینے کے بعد جب صبح بنکر سے باہر نکل کر کھیل میں مصروف تھا تو شلباری کی زد میں آ کر فوت ہوگیا۔ عوام کی سیکوریٹی اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہر دو حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے آر ایس پورہ سیکٹر میں پاکستان کی جانب سے متعدد جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی خبروں کے درمیان اگر ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کیا گیا ہے تو  یہ صورتحال نازک حالات کی نشاندہی کرتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں مسلسل کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد مقامی عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہاں شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ہمہ رخی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے باوجود اگر سرحد پر کشیدگی کی صورتحال کو کم کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو دونوں جانب تعلقات کی ابتری ایک نئی  جنگی محاذ کو کھلنے کا موجب بنے گی۔ پاکستان نے بھی جوابی قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ اس کی فوج بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ڈائرکٹر جنرل (ساوتھ ایشیا اینڈ سارک) نے طلب کرکے بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنے احتجاج کو درج کروایا۔ پاکستان نے اپنے شہریوں کی اموات کا بھی ذکر کیا ہے اور ہندوستان سے کہا گیا کہ وہ ازخود اس واقعہ کی تحقیقات کروا کر متعین کرلے اور پاکستان کو بھی اس تحقیقات کی رپورٹ سے واقف کروائے۔ دونوں ملکوں کو باہمی جنگ بندی کا احترام کرنا چاہئے۔ پورے جذبہ اور استقلال کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ سرحدوں پر دونوں ملکوں کے لوگوں کو امن کے ساتھ رہنے کا موقع دیا جائے۔ پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے 40 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ اس امر کا قوی امکان ہیکہ دونوں ملک آپسی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو فوری سمجھیں گے اور احتیاط کرتے ہوئے قدم اٹھائیں گے۔ ہندوستان اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ مسائل کی یکسوئی کی خاطر سرحدوں کو تنگ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اس مسئلہ پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ہی جانب حالات یکساں الزام در الزام کی کیفیت کو نازک بنادیں تو پھر دونوں جانب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے انسانوں کیلئے قفل مکانی کرنے اور سرحدوں کو ویران بنادینے کے سواء کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔ لہٰذا سرحدوں کو پرامن بنانے پر توجہ دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT