Monday , January 22 2018
Home / دنیا / جنگ بندی کے دوران اسرائیل ۔ حماس بات چیت جاری

جنگ بندی کے دوران اسرائیل ۔ حماس بات چیت جاری

غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے فلسطینی گروپ کا اصرار ‘ اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری ‘ مذاکرات کا نتیجہ غیر یقینی

غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے فلسطینی گروپ کا اصرار ‘ اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری ‘ مذاکرات کا نتیجہ غیر یقینی
قاہرہ / غزہ 11 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل اور فلسطینی مصالحت کاروں کے مابین بالواسطہ بات چیت کا آج قاہرہ میں آعاز ہوا تاکہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو ختم کیا جاسکے ۔ اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ بمباری میں تقریبا 2000 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اس دوران حماس کے کنٹرول والے غزہ میں مصر کی کوششوں سے 72 گھنٹوں کی جنگ بندی بھی نافذ ہوگئی ہے ۔ اسرائیل اور فلسطین کے وفود نے کل ہی 72 گھنٹوں کی جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا اور اس کے ایک دن بعد آج فریقین کے مابین مصر کی کوششوں سے بالواسطہ بات چیت کا آغاز ہوگیا ۔ اسرایلی فوج نے آج اطلاع دی ہے کہ کل نصف شب سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے حماس کی جانب سے اسرایئل پر کوئی راکٹ حملہ نہیں کیا گیا ہے ۔ فریقین کی جانب سے سخت گیر موقف اور بات چیت کو ترک کردینے کے انتباہ کے بعد اچانک ہی کل رات دیر گئے جنگ بندی سے اتفاق کا اعلان کیا گیا تھا ۔ غزہ میں حماس کا کہنا ہے کہ اس نے کل رات جنگ بندی کے نفاذ سے عین قبل اسرائیل پر کئی راکٹس داغے تھے اور اسرائیل کی جانب سے بھی غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تھا تاہم جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اس کا احترام کیا جا رہا ہے ۔ حکومت اسرائیل کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا کہ اسرائیلی فوج اپنے عوام کا تحفظ کرنے کسی بھی کارروائی کیلئے تیار رہیگی اگر حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ۔ سابق میں نافذ ہوئی تین دن کی جنگ بندی ختم ہوتے ہی اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ شروع کردیا گیاتھا اور حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹس داغے تھے ۔ چار ہفتوں کی اسرائیلی بمباری کے نتیجہ میں کم از کم 1,939 فلسطینی باشندے جاں بحق ہوئے ہیں اور ان میں سینکڑوں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے 67 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 64 فوجی شامل ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کے نتیجہ میں وہاں عوام تک انسانی بنیادوں پر امدادی ساز و سامان کی رسائی ممکن ہوسکے گی ۔ اسرائیل کا ایک اعلی سطح کا وفد قاہرہ پہونچ گیا ہے جو فلسطینی گروپس کے ساتھ بات چیت میں حصہ لے رہا ہے ۔ اس گروپ نے سابقہ سہ روزہ جنگ بندی کے خاتمہ کے فوری بعد بات چیت سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے واپسی اختیار کی تھی ۔ تاہم مصر میں اب جو بات چیت ہو رہی ہے اس کا نتیجہ بھی غیر یقینی ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں ہی فریقین اپنے اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے تیار نظر نہیں آتے ۔ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ علاقہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کیلئے حماس ہتھیاروں سے دستبرداری اختیار کرلی ۔ اس دوران حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی برخواست کردے اور ساحل پر اسے زیادہ علاقہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اس کی بندرگاہوں اور ائرپورٹس کو کھول دیا جائے ۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور صرف محدود مقدار میں اشیا اور افراد کی آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہاں ہتھیار لائے جانے سے روکنا ضروری ہے ۔ اسرائیل ‘ حماس کے راکٹ حملوں کا بہانہ کرکے وحشیانہ بمباری کا مرتکب ہوا ہے جس میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT