Monday , May 28 2018
Home / Top Stories / جنگ بندی کے لئے برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی مرکز سے نمائندگی۔ واجپائی کا طریقہ کار اپنانے کی سفارش کا فیصلہ۔ کل جماعتی اجلاس میں فیصلہ

جنگ بندی کے لئے برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی مرکز سے نمائندگی۔ واجپائی کا طریقہ کار اپنانے کی سفارش کا فیصلہ۔ کل جماعتی اجلاس میں فیصلہ

Courtesy Kashmeer Uzma

سرینگر- وادی کی مخدوش صورتحال سے نمٹنے اور وادی میں امن و امان لوٹانے کیلئے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ کے دوران طے پایا کہ کل جماعتی وفد تشکیل دیا جائے جو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے مرکز کوماہ صیام کے دوران یک طرفہ جنگ بندی پر آمادہ کرے ۔

میٹنگ کے دوران مخلوط سرکار کے درمیان ایجنڈا آف الائنس کی خامیوں اور اس کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ وادی میں گذشتہ40دنوں میں 70ہلاکتوں سے پیدا شدہ مخدوش صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کو تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں پر مشتمل کل جماعتی اجلاس طلب کیا۔

سرینگر کے جھیل ڈل کے کنارے پر واقع ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ یہ اجلاس 2بجے شروع ہوا،جس میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے شرکت کی۔میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر زور دہے کہ یا اگر ایجنڈا آف الائنس پر عمل در آمد ہوتا ہے ،تو کشمیر میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں

۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر نئی دہلی کو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی صحیح تصویر پیش کی جائے ،اور مرکز کو یہ باور کرایا جائے کہ ماہ ِ رمضان المبارک ،سالانہ امرناتھ یاترا اور عید الفطر کے پیش نظر امن کی فوری ضرورت ہے ،تو مرکزی حکومت کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی کی متفقہ تجویز پر ضرور غور کرسکتی ہے ۔

محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ سال2003میں اُس وقت کی مرکزی حکومت نے ایک اہم اقدام کے طور کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس اقدام مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی کو اٹل بہاری واجپائی کے کشمیر سے متعلق اپنا ئے گئے اپروچ سے تجربہ پاکر بحالی امن واعتماد سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کرنا چاہئے ۔

وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کل جماعتی اجلاس میں شامل سبھی جماعتوں کے لیڈروں نے ایجنڈا آف الائنس کی پذیرائی کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس بصیرت آمیز دستاویز میں شامل باتوں پر اب تک عمل در آمد کیوں نہیں کیا گیا ۔محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ آج کے اجلاس میں بھی یہ بات سامنے آئے کہ پی ڈی پی ،بھاجپا قیادت کی جانب سے متفقہ طور پر مرتب کئے گئے ایجنڈا آف الائنس سیاسی لیڈر شپ کو بلا لحاظ سیاسی و نظریاتی وابستگی ایک بھروسہ ہے ۔

انہوں نے کہا کل جماعتی اجلاس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی چاہتی ہوں کشمیر میں خون خرابہ بند ہو اور یہاں امن قائم رہے ۔انہوں نے کہا کہ یکطرفہ جنگ بندی کے نتیجے میں ماہ رمضان المبارک ،سالانہ امرناتھ یاترا اور عید الفطر مواقع پر عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران سیاسی لیڈروں نے جنگجو مخالف کارروائیوں ،گرفتاریوں ،چھاپوں اور کریک ڈائون وتلاشی کا رروائیوں کو عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ بتایا ،اور میں بھی مانتی ہوں ایسے اقدامات سے کشمیر کے لوگ مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں مرکزی حکومت کو تفصیلی جانکاری فراہم کرنے کیلئے ایک کل جماعتی وفد نئی دہلی بھیجا جائے ۔

اس سے قبل اسمبلی میں سے سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کی طرف سے پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کے علاوہ چودھری محمد رمضان اور محمد اکبر لون نے اجلاس میں شرکت کی،جبکہ ریاستی کانگریس کی طرف سے پارٹی کے صدر غلام احمد میر،جنرل سیکریٹری عثمان مجید اور نائب صدر غلام نبی مونگا موجود تھے۔ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید، پی ڈی ایف صدر حکیم محمد یاسین اور محمد یوسف تاری گامی، سی پی آئی کے عبدالرحمٰن ٹکرو، پنتھرس پاڑتی کے ہرش دیو سنگھ اور بلونت سنگھ منکوٹیا نے شرکت کی۔

معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی پی کی طرف سے بھی نعیم اختر ، محبوب بیگ اور بشارت بخاری کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کوندر گپتا، ست شرما اور سنیل سیٹھینے میٹنگ میں شرکت کی۔کل جماعتی اجلاس میں شہری ہلاکتوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا،جبکہ اپوزیشن نے اس بات پر سخت اعتراض جتایا کہ فورسز و فوجی آپریشنوں کے دوران معیاری عملیاتی طریقہ کار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاسی لیڈروں نے وزیر اعظم کے پاس کل جماعتی وفد لیکر جانے اور رمضان کے دوران سیز فائر کرنے کا مشورہ بھی دیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے وادی میں جاری عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی بی جے پی حکومت پر ایسی کارروائیوں پر فوری روک لگانے پر زور دیا۔

شرکا نے اجلاس کے دوران عام لوگوں پر فورسز کی طرف سے طاقت کے بے دریغ استعمال پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عام لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ شرکاء نے مسئلہ کشمیر پر سیاسی پہل کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کا تعطل ہے۔سیاسی لیڈروںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے معطل شدہ مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے میں اپنا منصبی کردارادا کریں۔

سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے ہندوپاک کے درمیان معطل شدہ مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے عمل کے فقدان کی وجہ سے ہی ریاستی عوام کے اندر شدید غم و غصہ اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اجلاس میں شامل سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اٹل بہاری واجپائی کے دور اقتدار میں 2002میں کشمیر کے حوالے سے اُٹھائے گئے اقدامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے انہیں پھر سے بحال کریں تاکہ ریاست میں جاری قتل و غارتگری کا سلسلہ تھم جائے

۔ذرائع کے مطابق نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر نے میٹنگ میں شہری ہلاکتوں پر سخت توشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن آل آوٹ کی وجہ سے غیر مخدوش صورتحال میں مزید اضافہ ہوا،اور اس سے کوئی مقصد بھی حاصل نہیں ہوا۔ پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ وہ کل جماعتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہنگامی نشست منعقد کریں جس میں وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے پر زور دیا جائے۔

نیز وزیر اعظم کو مسئلہ کشمیر کے جملہ فریقین کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرے تاکہ ریاست میں ایک پرامن اور سازگار ماحول کوپروان چڑھانے کا موقعہ مل جائے۔ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ نے کل جماعتی اجلاس کے دوران سبھی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کی طرف سے کشمیر مسئلہ کی متنازعہ حیثیت قبول کروانے کے لیے متحد ہوکر نئی دہلی پر دبائو قائم کرے۔

انجینئر رشید نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو اس بات پرآمادہ کریں کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ ایسا کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو انہیں وقت ضائع کئے بغیرعوامی مفاد کے پیش نظر اپنے عہدے سے دست بردار ہونا چاہیے۔

اس دوران پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر اور تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے بتایا کہ مندوبین نے مرکزی لیڈرشپ پر واجپائی طرز کی پہل کو پھر سے شروع کرنے پر زور دیا۔ایس کے آئی سی سی میں میٹنگ کے حاشیہ پر نعیم اختر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے میٹنگ میں شریک ہوئے شامل ہوئے سیاسی نمائندوں کی اکثر رائے یہ ہے کہ کشمیر پر سیاسی پہل شروع کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام شرکاء نے ایجنڈا آف الائنس کی خامیوں اور اس کے نفاذ پر بات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ لیڈر شپ نے2002میں واجپائی کی طرف سے شروع کی گئی پہل کے اوراق پھر الٹنے کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT