Wednesday , December 19 2018

جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں‘ تاحال 435 فلسطینی اور 13 اسرائیلی ہلاک

غزہ؍یروشلم۔ 20؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ غزہ میں آج اسرائیلی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ بمباری کی گئی جس میں تقریباً 100 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ۔ اس طرح اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 435 تک پہونچ گئی ہے ۔ اسرائیل نے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ساتھ ہی ساتھ زمینی کارروائی میں بھی شدت پیدا کردی ہے تاکہ حماس کے نشانو

غزہ؍یروشلم۔ 20؍جولائی (سیاست ڈاٹ کام)۔ غزہ میں آج اسرائیلی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ بمباری کی گئی جس میں تقریباً 100 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ۔ اس طرح اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 435 تک پہونچ گئی ہے ۔ اسرائیل نے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ساتھ ہی ساتھ زمینی کارروائی میں بھی شدت پیدا کردی ہے تاکہ حماس کے نشانوں کو ختم کیا جاسکے گا ۔ 13 دن قبل شروع ہوئی فوجی مہم کا آج خونریز دن تھا ۔ جبکہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس کی عارضی جنگ بندی چند ہی گھنٹوں میں ختم ہوگئی ۔ مہلوکین اور زخمیوں کی منتقلی کی اجازت کیلئے اس جنگ بندی سے اسرائیل اور حماس دونوں نے اتفاق کیا تھا لیکن یہ انتہائی کم وقت کیلئے رہی اور اسرائیلی فوج نے بمباری کا سلسلہ شروع کردیا ۔ ہزاروں فلسطینی عوام کا آج بھی غزہ سے تخلیہ کا سلسلہ جاری رہا ۔ اسرائیل نے کئی مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے ۔

حماس کے حملوں میں 7 اسرائیلی بشمول 5 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ مہلوکین کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے ۔ آج اسرائیلی حملوں سے حماس کے ایک سینئر قائد کے فرزند کے بشمول 24 فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ شجاعیہ اور پڑوسی ضلع زیتون پر اسرائیلی حملوں سے کئی افراد ہلاک ہوئے جب کہ شمالی علاقہ جبلیہ میں بھی ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ شجاعیہ کی سڑکوں پر اپنی زندگیاں بچانے کے لئے فرار ہونے والے افراد کا ہجوم دیکھا گیا۔ 7 اسرائیلی بشمول 2 فوجی جھڑپوں کے درمیان ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے جب کہ اسرائیلی آبادی کا ایک وسیع حصہ معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جب کہ ان پر حملے جاری ہیں۔ وہ قریبی پناہ گاہوں میں پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ کل 4 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 2 اُس وقت ہلاک ہوئے جب کہ فوجی وردی میں ملبوس عسکریت پسند ایک سرنگ سے باہر آکر اسرائیل کے اندر فائرنگ شروع کردی۔ اسرائیلی سرزمین پر ایک عسکریت پسند ہلاک ہوگیا جب کہ باقی جان بچاکر غزہ واپس فرار ہونے کے دوران ایک لڑاکا ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ہلاک کردیئے گئے۔

غزہ میں تشدد کے دوران فلسطینی اتھاریٹی کے صدر محمود عباس اور اقوام متحدہ کے سربراہ بانکی مون کی ملاقات ہوئی تاکہ جنگ بندی کے معاہدہ کی کوشش کی جاسکے۔ محمود عباس نے جلاوطن حماس کے قائد خالد مشعل سے بھی ملاقات کی۔ فرانس زیر قیادت کوششیں جو جنگ بندی کے لئے کی جارہی تھیں، ناکام ہوگئیں۔ حماس نے مصری جنگ بندی کی تجویز بھی مسترد کردی۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد کیا گیا تاکہ حماس اور بین الاقوامی برادری کے درمیان ترسیل کا کام کرسکے۔ حماس کے جنگجو اسرائیل کے قریبی علاقوں میں زیر زمین سرنگوں کے ذریعہ داخل ہوکر کل اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شامل ہوچکے تھے۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ حماس کے ساتھ اسرائیل کا تنازعہ نہ صرف غزہ پٹی کی حدود سے باہر بلکہ زیر زمین بھی پھیل چکا ہے۔ سرنگیں اسرائیل کے لئے ایک خطرہ ثابت ہورہی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعہ اسرائیل کی سرزمین میں دراندازی ممکن ہے۔ غزہ میں کل 62 افراد ہلاک ہوئے تھے

جو ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آدھی رات کے قریب مشرقی غزہ سٹی میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ سرحد کا اُفق روشنی کے دھماکوں اور دھماکوں سے منور ہوگیا تھا۔ دھویں کے کثیف بادل اُٹھتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ روپوش حماس دہشت گردوں سے اسرائیلی فوج کا کس وقت اور کہاں سامنا ہوسکتا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ حماس اور غزہ کے دیگر عسکریت پسند گروپس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، لیکن اسرائیلی فوج نے اس کی توثیق نہیں کی۔ رفاہ کے قریب اسرائیلی فوج کو ایک خودکش دھماکوں سے لدی ہوئی گدھا گاڑی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ فوج کی فائرنگ سے بم پھٹ پڑے اور گدھا ہلاک ہوگیا۔ جنوب مشرقی اسرائیل پر غزہ پٹی سے راکٹ حملہ کیا گیا جس سے ایک اسرائیلی ہلاک اور دیگر 4 زخمی ہوگئے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج نے تاحال دہشت گردوں کے 2,300 اہداف پر حملہ کیا ہے۔
غزہ سٹی سے موصولہ اطلاع کے بموجب حماس کی قیادت نے اطلاع دی ہے کہ مصری مجوزہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے سلسلہ میں مذاکرات کے لئے ان سے قاہرہ سے ایک دعوت نامہ وصول ہوا ہے اور حماس کسی بھی فریق کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تعاون کرنے تیار ہے۔ قبل ازیں حماس مصر کی اسرائیل کے ساتھ صلح کی تجویز مسترد کرچکا ہے جب کہ اسرائیل نے اسے قبول کرلیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT