Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / جنگ کی صورت میں انڈیا کا 10 روز سنبھلنا تک مشکوک

جنگ کی صورت میں انڈیا کا 10 روز سنبھلنا تک مشکوک

نئی دہلی ، 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے انڈین آرمی میں اسلحہ و گولہ بارود کی سخت قلت کی نشاندہی کی ہے۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ روز پیش کردہ اپنی رپورٹ میں سی اے جی نے آرڈیننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کے پرفارمنس میں خامیاں پائی ہیں اور یہ بھی پایا کہ اس کی فیکٹریوں کی کارگزاری جیسی 2013ء میں تھی ہنوز اس میں کوئی بہتری نہیں دیکھنے میں آئی ہے۔ اس نے کہا کہ مختلف اقسام کے کم ازکم 40 فیصد اسلحہ کے معاملے میں ہندوستانی فوج کے پاس بس اتنے ہتھیار ہیں کہ 10 روزہ جنگ لڑی جاسکے۔ جنگ لڑنے کیلئے کلیدی 152 اقسام کے ہتھیاروں میں سے 61 اقسام 10 یوم کی جنگ تک چل پائیں گے، جبکہ انڈین آرمی کیلئے لازمی ہے کہ 20 روزہ شدید لڑائی کیلئے معقول مقدار میں اسلحہ اپنے پاس جمع رکھے۔ اس رپورٹ نے آرٹیلری اور ٹینک والے اسلحہ میں دو کلیدی قلتوں کی نشاندہی کی اور 2013ء میں طے شدہ خاکے کی مطابقت میں کارکردگی پیش کرنے میں ناکامی پر او ایف بی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ سی اے جی نے سرکاری آرڈننس فیکٹری بورڈ کو اس بات پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ آرمی کیلئے اسلحہ کی دستیابی میں سخت کمی کیلئے وہی ذمہ دار ہے۔سی اے جی نے او ایف بی پر تنقید کی کہ مارچ 2013ء سے آرمی کو سربراہ کئے گئے ہتھیاروں کا معیار ناقص ہے۔ سی اے جی نے کہا کہ 2015ء میں ’’آرمی میں اسلحہ کا انتظام‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطح کی رپورٹ میں اُجاگر کی گئی سخت فکرمندی کے باوجود اس اہم معاملے میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی ہے)

TOPPOPULARRECENT