Sunday , September 23 2018
Home / جرائم و حادثات / جوان لڑکے کی نعش حاصل کرنے باپ کی تڑپ ، والدین شیرخوار لڑکی کو چھوڑ کر فرار

جوان لڑکے کی نعش حاصل کرنے باپ کی تڑپ ، والدین شیرخوار لڑکی کو چھوڑ کر فرار

2 مقامات 2 واقعات
حیدرآباد۔ 3 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کے دو مقامات پر پیش آئے واقعات میں ایک ضعیف باپ جنگل میں پڑی ہوئی جوان لڑکے کی نعش کو حاصل کرنے تڑپ گیا تو وہیں ایک نومولود کو اس کے بے رحم والدین جنگل میں تڑپتا چھوڑ کر چلے گئے۔ جھولے سے نومولود کو نکال کر بے رحم والدین چین سے بیٹھ گئے تو وہیں نوجوان بیٹے کی نعش کو ڈولے میں دیکھ کر ضعیف والد بے بسی کا شکار ہوگیا۔ ضلع میدک کے مستقر میدک محلہ دائرہ کے ساکن 22 سالہ معین خاں کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ علاقہ ضافی پلی میں معین کی نعش دستیاب ہوئی جو محلہ دائرہ میدک کے ساکن محمد غفار خاں کا بیٹا تھا۔ معین کے قتل کی وجوہات کا پتہ چلانے میں پولیس مصروف تحقیقات ہے۔ معین کی نعش اور مقام جائزہ لینے کے بعد پولیس سمجھتی ہے کہ کوئی ذاتی دشمنی یا سنگین وجہ کے سبب معین کے سینے میں سلاخیں گھونپ کر اس کا قتل کیا گیا۔ غفار خاں میدک ٹاؤن سے 60 کیلومیٹر دور واقع شوگر فیکٹری جو کاماریڈی میں ہے، وہاں بحیثیت چوکیدار خدمات انجام دیتے ہیں اور بڑی شفقت کے ساتھ انہوں نے اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کیا اور ایک ایسے وقت جب غفار خاں کو اولاد سے سکون حاصل ہونے کا وقت تھا، ان کے چمن کو اجاڑ دیا گیا۔ معین خاں کے قتل کے پیچھے عاشقی اور محبت کے مسائل کارفرما ہونے کی وجوہات کا پتہ چلا ہے۔ غفار خاں کے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے جن میں معین خاں قتل کردیا گیا جبکہ دوسرے واقعہ میں انسانیت کو شرمسار کرتے ہوئے ایک نومولود کو گھنے جنگل کی جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔ پرحل کے چنچولی علاقہ میں ایک لاری ڈرائیور کی نظر اس نومولود پر پڑی جو جنگل اور وحشی جانوروں کے حملوں سے محفوظ تھا جسے اللہ رکھے ،اسے کون چکھے۔ جنم دینے والوں کی درندگی اور وحشت کا شکار اس نومولود پر وحشی جانوروں نے رحم کیا۔ آنکھ کھولتے ہی ماں کی آغوش کے بجائے کھلا آسمان اور جنگل اس کا مقدر بن گیا۔ اللہ کی قدرت ہے کہ بروقت ڈرائیور نے اس نومولود کو دیکھ لیا۔ آج سماج کی اکثریت بلی اور کتے کے بچے غائب ہوجائے تو پڑوس کو بے چین کردیتے ہیں لیکن یہ کیسے انسان ہوں گے جنہوں نے اس کو کسی آبادی میں نہیں بلکہ جنگل میں چھوڑ دیا۔ یقیناً تکلیف تب ہوتی ہے جب لوگ زندہ رہ جائیں اور رشتے مرجائیں۔ سارنگ پور منڈل پولیس اس بچی کے والدین کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔ اس لڑکی کو نرمل میٹرنٹی ہاسپٹل میں ڈاکٹر کی نگرانی میں رکھا گیا ہے جس کی صحت مستحکم بتائی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT