Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جواہر لال نہرو یونیورسٹی شعبہ فارسی و پشتو کا جشن نو روز

جواہر لال نہرو یونیورسٹی شعبہ فارسی و پشتو کا جشن نو روز

افغانی و ہندوستانی طلباء کے ثقافتی رنگارنگ پروگرام ، پروفیسر صاحبان کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : فارسی سال نو جشن نو روز کی مناسبت سے سابق روایات کی طرح امسال بھی اسکول آف سوشیل سائنس کے آڈیٹوریم میں آج 20 مارچ صبح 10 بجے کیا گیا ۔ جشن نو روز کے ساتھ ساتھ ایک علمی مذاکرہ بعنوان ’ ہندو افغانستان روابطہ تاریخ کے آئینے میں ‘ اور ایک ثقافتی رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کیا گیا جس میں افغانی اور ہندوستانی طلبہ وطالبات نے پشتو ، فارسی ، دری اور ہندی میں نغمے پیش کئے اور نو روز کی مناسبت سے افغانی روایتی ڈانڈیا رقص اور نغمات پیش کئے گئے جس سے ساری محفل جھوم اٹھی ۔ پروگرام کا انعقاد ، سینئیر آف پرشین جے این یو ، سفارت افغانستان و انڈین کونسل برائے کلچرل ریلیشن حکومت ہند کے باہم اشتراک سے ہوا ۔ پروگرام کا آغاز ہندوستانی قومی گیت جن گن من اور افغانی قومی گیت سے ہوا ۔ پروگرام کی نظامت شعبہ فارسی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کی جب کہ خطبہ استقبالیہ صدر شعبہ فارسی پروفیسر سید عین الحسن نے پیش کیا ۔ اپنے خطاب میں پروفیسر حسن نے کہا کہ ابھی ہمارے ملک ہندوستان میں ہولی گزری ہے اور نو روز کل سے شروع ہورہا ہے ۔ ان دو نوں تہواروں میں ایک مطابقت ہے کہ دونوں رنگوں سے بھرے ہوتے ہیں اور برائی پر اچھائی کی جیت کی علامت ہیں ۔ نو روز کے ساتھ فارسی سال شروع ہوتا ہے جب کے ہولی کے بعد ہندی نیا سال شروع ہوچکا ہے جو ہندو افغانستان و ایران اور مرکزی ایشیا سے ہمارے تہذیبی روابط کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے پروفیسر حسن نے مزید کہا کہ پورے ہندوستان میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی واحد دانش گاہ ہے جہاں پشتو زبان میں گریجویشن ہوتا ہے اور اس کے لیے افغانستان سے ہمارے مہمان پروفیسر عبدالخالق رشید جو مرے دل کے بھی بہت قریب ہیں اور ہند میں بابائے پشتو ہیں ۔ موجودہ سفیر افغانستان ڈاکٹر شیدا ابدالی جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل اسٹیڈیز میں پی ایم ڈی کے اسکالر رہ چکے ہیں وہ خاص طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ اس کے ساتھ پروفیسر حسن نے تمام شرکائے پروگرام ، طلبہ وطالبات ، اساتذہ اور بیرونی و مقامی تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال بھی کیا اور اپنے ساتھیوں کا شریک کار ہونے پر شکریہ بھی ادا کیا ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر شیدا ابدالی سفیر محترم جمہوری افغانستان نے اپنے خطاب میں ہندو افغانستان کے قدیم تاریخی علمی اور ثقافتی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نو روز دنیا کا قدیم جشن ہے جس کو ایران ، افغانستان ، تاجکستان ، ازبکستان وغیرہ میں بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے جب کہ ہندوستان میں بھی مغلیہ دور میں بادشاہ اکبر سے لے کر شاہ جہاں تک بڑے اہتمام سے منایا جاتا تھا ۔ اسکول آف لینگویجز کے ڈین پروفیسر نے تمام شرکاء کو نو روز کی مبارکباد پیش کی اور ہند و افغان رشتوں کے بڑھتے ہوئے قدم کو سراہا ۔ ہندوستان میں پشتو زبان کے بانی اور جے این یو کے مہمان پروفیسر عبدالخالق رشید نے کہا کہ نو روز ہماری زندگی کی آواز ہے ۔ تمام فارسی ، دری اور پشتو کے شعراء نے نو روز کی تعریف میں اشعار کہے ہیں رودکی سے لے کر حافظ شیرازی تک یہ جشن آرین ، ایرانی ، افغان اور ترکوں کے لیے قدرے مشترک بھی ہے اور افتخار کا باعث بھی ۔ وزارت خارجہ اور کے سی آر کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب اتل گاوٹسے نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان کے رشتے ہزاروں سال پرانے ہیں ایک وقت وہ تھا کہ ہمارے درمیان کوئی سرحد نہیں تھی مگر آج بھی ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کوئی سرحد نہیں ہے ۔ ہمارے رشتوں کو بڑھانے میں بدھ مت ، اسلام اور ہندو ازم کا خاص کردار ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارے اندر تہذیبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور گرمجوشی اور محبت بھی ۔ موجودہ سفیر افغان ڈاکٹر ابدالی کا دونوں ملکوں کے درمیان آپسی تعلقات کو بڑھانے میں خاص کردار ہے ۔ مزید جن حضرات نے پروگرام میں شرکت کی ان میں جناب سید شاہد مہدی سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ و بیگم مہدی صاحبہ ، پروفیسر محمود عالم سابق صدر شعبہ فارسی جے این یو ، پروفیسر اخلاق آھن ، پروفیسر انور خیری ، ڈاکٹر علاء الدین شاہ ، ڈاکٹر اشتیاق احمد ، ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈاکٹر فوزان ابرار ، ڈاکٹر اربھنت ، پروفیسر مجیب الرحمن ، ڈاکٹر محسن علی ، ڈاکٹر سید زیغم عباس ، ڈاکٹر ابوالکلام آزاد ، ڈاکٹر اخلاق آزاد ، خانم شرین ، ڈاکٹر مظہر الحق وغیرہ ۔ پروگرام میں احمد فانوس افغانی گلوکار کے نغموں نے چار چاند لگادئیے جس سے پوری محفل جھوم اٹھی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر مظہر الحق اور پروفیسر انور خیری نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT