جوبلی ہال میں اے پی و تلنگانہ حکومتوں کا قانون ساز کونسل

حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی یادگار جوبلی ہال کو آندھراپردیش اور تلنگانہ حکومتیں بطور قانون ساز کونسل استعمال کر رہی ہیں لیکن اس تاریخی عمارت کے لان میں واقع مسند شاہی دونوں حکومتوں کی غفلت کا شکار ہے۔ اس تاریخی عمارت نگہداشت اور مرمت پر حکومتوں کی کوئی توجہ نہیں جبکہ کروڑہا روپئے دیگر کاموں کی

حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی یادگار جوبلی ہال کو آندھراپردیش اور تلنگانہ حکومتیں بطور قانون ساز کونسل استعمال کر رہی ہیں لیکن اس تاریخی عمارت کے لان میں واقع مسند شاہی دونوں حکومتوں کی غفلت کا شکار ہے۔ اس تاریخی عمارت نگہداشت اور مرمت پر حکومتوں کی کوئی توجہ نہیں جبکہ کروڑہا روپئے دیگر کاموں کیلئے منظور کئے جارہے ہیں۔ جوبلی ہال کے لان میں موجود مسند شاہی کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور اندیشہ ہے کہ اگر اس کی مرمت پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو یہ منفرد گنبد نما مسند شاہی منہدم ہوجائے گی۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں اسی مسند شاہی سے فرمان جاری کرتے تھے جس کی تصاویر آج بھی جوبلی ہال میں آویزاں ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد موجودہ قانون ساز کونسل کی عمارت کو آندھراپردیش کیلئے الاٹ کردیا گیا جبکہ جوبلی ہال کو تلنگانہ قانون ساز کونسل میں تبدیل کردیا گیا ۔ دونوں حکومتوں نے اپنے اپنے کونسل کے اندرونی حصہ میں تزئین نو اور آرائش پر بھاری خرچ کیا ہے لیکن عمارت کے باہری حصہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں عمارت کے وجود کو خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔

جوبلی ہال کے لان میں واقع گنبد نما مسند شاہی جو اس عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب ہے، اس کی چھت بوسیدہ ہوچکی ہے اور کئی حصے ٹوٹ کر اندرونی مٹی اور لوہے کی سلاخیں دکھائی دے رہی ہے۔ اس خوبصورت مسند شاہی کی آہک پاشی اور کلر پر کئی برسوں سے توجہ نہیں دی گئی۔ اب تو مسند شاہی پر موجود شاہی تاج کا رنگ بھی نکلنے لگا ہے۔ اس بارے میں متعلقہ عہدیداروں سے استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے نگہداشت کے سلسلہ میں فنڈس جاری نہیں کیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت نظام حیدرآباد کے کارناموں کے اعتراف کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ان کی یادگار کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں ۔ عمارت کی بیشتر حصوں میں چھت سے پانی لکیج ہورہا ہے لیکن اسے روکنے کا کوئی انتظام نہیں۔ پانی کے لکیج کے سبب چھت کمزور ہونے لگی ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکان کونسل روزانہ اسی لان سے ہوکر گزرتے ہیں لیکن کسی کو بھی اس نادر مسند شاہی کے تحفظ کی فکر نہیں۔ اگر اس خوبصورت اور تاریخی مسند شاہی کو نقصان ہوگا تو جوبلی ہال کی خوبصورتی عملاً ختم ہوجائے گی۔ تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تاریخی یادگار کے تحفظ پر فوری توجہ مرکوز کرے۔ اہم قومی تہواروں کے موقع پر تاریخی عمارتوں کی آہک پاشی کی جاتی ہے لیکن جوبلی ہال کی یہ عمارت کئی برسوں سے حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہے۔ اسمبلی اور کونسل کے آغاز سے قبل عمارتوں کی آہک پاشی کی روایت ہے لیکن نظام حیدرآباد کی یہ تاریخی عمارت شاید حکام کی نظر میں تحفظ کی مستحق نہیں۔

TOPPOPULARRECENT