Tuesday , December 11 2018

جونیر ڈاکٹرس سے حکومت کی بات چیت ، مطالبات کی یکسوئی کا تیقن : وزیرصحت

دیرینہ مطالبات کی عدم تکمیل پر غیرمعینہ ہڑتال، جونیر ڈاکٹرس قائدین کا انتباہ

دیرینہ مطالبات کی عدم تکمیل پر غیرمعینہ ہڑتال، جونیر ڈاکٹرس قائدین کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ بشمول حیدرآباد میں گذشتہ چند دنوں سے جاری جونیر ڈاکٹرس کی ہڑتال پر ڈپٹی چیف منسٹر ریاست تلنگانہ ڈاکٹر راجیا نے آج جونیر ڈاکٹروں کے قائدین سے بات چیت کی۔ بتایا جاتاہیکہ جونیر ڈاکٹرس اپنے دیرینہ حل طلب مسائل کی یکسوئی کے مطالبہ پر اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کے پیش نظر سرکاری دواخانوں بالخصوص عثمانیہ ہاسپٹل اور گاندھی ہاسپٹل میں مریضوں کو کئی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے جس کے پیش نظر ڈپٹی چیف منسٹر (جو صحت و طبابت کا قلمدان رکھتے ہیں) نے ہڑتالی جونیر ڈاکٹروں کے قائدین کو بات چیت کے لئے مدعو کیا اور کافی دیر تک بات چیت کی۔ جونیر ڈاکٹروں نے بتایا جاتا ہیکہ ڈپٹی چیف منسٹر سے اپنے دیرینہ حل طلب مسائل کی یکسوئی کیلئے مؤثر و مثبت اقدامات کرنے کی خواہش کی لیکن سمجھا جاتا ہیکہ ڈپٹی چیف منسٹر نے جونیر ڈاکٹروں کے قائدین کو کوئی واضح تیقن نہیں دیئے تھے جس کی وجہ سے بات چیت غیرمختتم رہی۔ تاہم دوبارہ شام میں بات چیت کیلئے جونیر ڈاکٹروں کو مدعو کرنے کا ڈاکٹر راجیا نے اظہار کیا جبکہ جونیر ڈاکٹرس کے قائدین نے حالیہ دنوں میں جونیر ڈاکٹروں کیلئے دیہی علاقوں میں ایک سال کی خدمات انجام دینے کو لازمی قراردیتے ہوئے جاری کردہ احکامات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے ایک سال خدمت کی شرط کو ختم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں بتایا جاتا ہیکہ جونیر ڈاکٹرس کے دیگر مطالبات میں ریاست تلنگانہ کے پرائمری ہیلت سنٹرس میں کنٹراکٹ کی اساس پر خدمات انجام دینے والے جونیر ڈاکٹروں کی خدمات کوباقاعدہ بنانے، دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ منڈل و ضلع اور شہری علاقوں کے سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں و دیگر اسٹاف (طبی عملہ کی) کی مخلوعہ تمام جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے اور ریاست تلنگانہ میں کتنے پرائمری ہیلت سنٹرس کی فوری ضرورت ہے، نشاندہی کرتے ہوئے نئے پرائمری ہیلت سنٹرس کا قیام عمل میں لانا شامل ہیں۔ جونیر ڈاکٹرس کے قائدین نے مزید بتایا کہ حکومت نے اب تک ہی ریاست تلنگانہ میں کنٹراکٹ کی اساس پر خدمات انجام دینے والے تمام ملازمین وغیرہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہٰذا حکومت سے اپنے اس فیصلہ پر قائم رہتے ہوئے اپنے تیقن کو پورا کرنے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا اور بصورت دیگر دوبارہ بات چیت کی ناکامی پر غیرمعینہ مدت کی ہڑتال ریاست بھر میں شروع کرنے کا انتباہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT